نئی دہلی: بھارت کی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پیر کو کہا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ایسے مرحلے پر پہنچ گئے ہیں جہاں دونوں ممالک کے لیے مزید رعایتیں دینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس صورتحال کے لیے ’’پلیٹو‘‘ کی اصطلاح استعمال کی، جس کا مطلب ہے کہ پیش رفت کی رفتار رک یا سست ہو گئی ہے، تاہم بات چیت جاری ہے۔
نئی دہلی میں میونخ سکیورٹی کانفرنس کے ایک پروگرام میں سیتارمن نے کہا کہ مذاکرات اب بھی ہو رہے ہیں، لیکن دونوں جانب سے مزید سمجھوتے کرنا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔
اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے کچھ گنجائش موجود ہے اور دونوں ممالک اس پر کام کر سکتے ہیں۔
بھارت اور امریکا نے فروری میں ایک ابتدائی مفاہمت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے تحت امریکا درآمدی محصولات اٹھارہ فیصد تک کم کرے گا، جبکہ بھارت مختلف صنعتی اور زرعی مصنوعات پر عائد ڈیوٹیاں گھٹائے گا۔
درآمدی محصولات یا ٹیرف وہ ٹیکس ہوتے ہیں جو دوسرے ملک سے آنے والی اشیا پر لگائے جاتے ہیں۔ ان میں کمی سے مصنوعات درآمد کرنا سستا ہو سکتا ہے اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے منڈی تک رسائی آسان ہو سکتی ہے۔
اس ابتدائی مفاہمت کے بعد مذاکرات کے کئی دور ہوئے، تاہم اختلافات کے باعث حتمی معاہدہ مکمل نہیں ہو سکا۔
امریکا کی جانب سے بھارت سمیت متعدد ممالک کے مبینہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کی تحقیقات نے بھی بات چیت کو پیچیدہ بنایا ہے۔ ایسی تحقیقات میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ متعلقہ تجارتی پالیسیاں امریکی کاروباروں کو نقصان تو نہیں پہنچاتیں۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ معاہدے کا اعلان فوری طور پر متوقع نہیں، اگرچہ دونوں ممالک اختلافی نکات کی نشاندہی کر چکے ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دفتر کے مطابق مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ٹیلی فون پر تجارت، دفاع، توانائی اور اہم ٹیکنالوجیز میں تعاون پر بھی بات کی۔
سیتارمن کے بیان کے مطابق مذاکرات جاری ہیں، لیکن باقی اختلافات دور کرنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔





