ریاض: یمن کے حوثیوں نے ہفتے کو سعودی دارالحکومت میں آرامکو کی ایک تنصیب کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ گروہ نے اسے صنعاء اور یمن کے دیگر صوبوں پر سعودی حملوں کا جواب قرار دیا۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ہفتے کو ریاض میں آرامکو کی ایک تنصیب کے قریب آگ اور دھوئیں کا بڑا بادل اٹھتا دکھائی دیا۔ رائٹرز کی تصاویر میں بھی دارالحکومت کے جنوب میں ایک ریفائنری میں آگ سے اٹھتا دھواں نظر آیا۔
عینی شاہد کی اطلاع سے آگ دکھائی دینے کی تصدیق ہوتی ہے، تاہم اس سے حوثیوں کے بیان کردہ ہتھیاروں یا نقصان کی نوعیت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوتی۔
سعودی حکام نے فوری طور پر تنصیب پر حملے کی تصدیق نہیں کی تھی۔
یہ دعویٰ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کے دوران سامنے آیا ہے۔ گروہ نے سعودی شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے تیز کیے ہیں۔
گزشتہ ہفتے حوثیوں نے ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ سعودی عرب نے کہا تھا کہ طائف اور ینبع کی جانب داغے گئے چھ بیلسٹک میزائل روک لیے گئے، تاہم آرامکو کی تنصیبات کو نقصان کی اطلاع نہیں دی تھی۔
تازہ دعویٰ ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے کہ ریاض سعودی فضائی حملوں کی مدد سے یمنی فورسز کی زمینی کارروائی پر غور کررہا ہے۔ حکام نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ممکنہ راستوں میں باب المندب کے گرد محدود کارروائی یا متعدد محاذوں پر مربوط حملے شامل ہیں۔
دوسری جانب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اپنے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت علاقائی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ریاض میں ہنگامی اجلاس کی تیاری کررہے ہیں۔
ریاض میں حملے کا دعویٰ سعودی توانائی تنصیبات کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھاتا ہے۔ جانی نقصان، کام میں تعطل یا پیداواری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔





