واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف ادارہ جاتی پابندیاں تیار کرلی ہیں اور جلد ان کے اعلان کا ارادہ رکھتی ہے۔
معاملے سے واقف دو ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ پابندیوں کی تیاری مکمل ہے، تاہم ان کے اعلان کا درست وقت ابھی طے نہیں ہوا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اس ممکنہ فیصلے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
واشنگٹن اس سے پہلے عالمی فوجداری عدالت کے متعدد ججوں اور پراسیکیوٹرز پر پابندیاں عائد کرچکا ہے۔ پورے ادارے کو براہ راست نشانہ بنانا عدالت کے خلاف امریکی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ عدالت اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹ واپس لے۔ امریکا نے افغانستان میں امریکی اہلکاروں سے متعلق مبینہ جرائم کی سابقہ تحقیقات کی بھی مخالفت کی تھی۔
عالمی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ تنازع سے متعلق مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
اسرائیل نے الزامات مسترد کرتے ہوئے عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل عالمی فوجداری عدالت کے رکن نہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ عدالت کو ان ممالک کے شہریوں کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل نہیں جو اس کے بانی معاہدے میں شامل نہیں۔
عدالت کا مؤقف ہے کہ وہ کسی رکن ریاست کی سرزمین پر ہونے والے مبینہ جرائم کی تحقیقات کرسکتی ہے، خواہ ملزم کا ملک عدالت کا رکن نہ ہو۔
اگر امریکی محکمہ خزانہ پورے ادارے پر پابندیاں عائد کرتا ہے تو امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو سرکاری اجازت کے بغیر عدالت کو رقم، سامان یا خدمات فراہم کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔
امریکی مالیاتی نظام پر انحصار کرنے والے بین الاقوامی بینک اور کاروباری ادارے بھی عدالت کے ساتھ لین دین محدود کرسکتے ہیں۔
عدالتی حکام نے خبردار کیا ہے کہ پابندیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی، انشورنس، تفتیشی سرگرمیوں اور روزمرہ مالی معاملات کو متاثر کرسکتی ہیں۔ ان میں امریکی ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی شامل ہے۔
عالمی فوجداری عدالت 2002 میں نسل کشی، جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور جارحیت کے جرم پر مقدمات چلانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
ممکنہ پابندیوں کے اثرات اسرائیلی رہنماؤں کے مقدمات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ مختلف ممالک میں جاری تحقیقات اور عدالت کے معمول کے کام کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔





