سان فرانسسکو: گوگل کے مصنوعی ذہانت کے ماڈل جیمنائی نے مئی میں سائبر سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران تین حقیقی کمپنیوں کے کمپیوٹر نظام میں رسائی حاصل کرلی۔
یہ واقعہ ایک آزاد سائبر سکیورٹی کمپنی ارریگولر کی جانب سے کیے گئے جائزے کے دوران پیش آیا، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کی سائبر صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
جیمنائی کو ایک فرضی کمپنی کے نظام میں معلومات تلاش کرنے کے لیے بنائے گئے کیپچر دی فلیگ ٹیسٹ میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ تاہم ٹیسٹنگ ماحول میں غیر ارادی طور پر انٹرنیٹ تک رسائی موجود تھی۔
اس دوران جیمنائی نے حقیقی کمپنیوں کے نظام کو بھی ٹیسٹ کا حصہ سمجھ لیا۔ ایک واقعے میں ماڈل نے پاس ورڈز کا اندازہ لگا کر محفوظ نظام تک رسائی حاصل کی، جبکہ دو دیگر واقعات میں اسے عوامی آن لائن ذخیرے سے ایسی معلومات ملیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے اس نے محفوظ نظام میں داخلہ حاصل کیا۔
گوگل کے مطابق تینوں واقعات میں جیمنائی نے اس وقت اپنی کارروائی روک دی جب اسے معلوم ہوا کہ وہ حقیقی کمپنیوں کے نظام تک پہنچ چکا ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کو اطلاع دی گئی اور گوگل نے ٹیسٹنگ کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کیں۔
گوگل نے کہا کہ ان واقعات میں کوئی نقصان نہیں ہوا اور یہ پیچیدہ سائبر حملے نہیں تھے۔ ارریگولر کے مطابق مسئلے کو حل کرلیا گیا اور دیگر بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں کو بھی آگاہ کیا گیا۔
یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف سوالات کے جواب دینے تک محدود نہیں رہی۔ اے آئی ایجنٹس معلومات تلاش، سافٹ ویئر استعمال اور کمپیوٹر نظام پر عملی کارروائیاں بھی کرسکتے ہیں۔





