پیرس: فرانس میں اساتذہ کی کمی، ناکافی تعلیمی وسائل اور طویل تدریسی اوقات کے خلاف طلبہ کا احتجاج مختلف شہروں میں پھیل گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے آغاز سے پانچ ہزار سے زیادہ افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں۔
تعلیمی حکام کے مطابق جمعے کو تقریباً سات سو پینتیس تعلیمی ادارے متاثر ہوئے۔ طلبہ نے اپنے مطالبات کے حق میں منگل کو ایک اور بڑے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
تحریک کا آغاز سترہ ستمبر کو پیرس کے نواحی علاقے کریتئی کے سینٹ اگزوپیری ہائی اسکول سے ہوا، جہاں طلبہ نے عملے اور وسائل کی کمی کے خلاف ہڑتال کرنے والے اساتذہ کی حمایت کی۔
حکام کی جانب سے نائب سربراہ اور نرس سمیت اضافی عملہ فراہم کرنے پر اس اسکول میں حالات معمول پر آگئے، تاہم دیگر علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ بڑھتا رہا۔
طلبہ کی شکایات میں اساتذہ کی غیر حاضری، کلاس رومز کی خراب حالت، بھاری تدریسی شیڈول اور طویل اوقات شامل ہیں۔ بعض اسکولوں میں صبح آٹھ سے شام چھ بجے تک تدریسی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔
ماہر سماجیات ویلری بیکے کے مطابق خصوصاً کم آمدنی والے علاقوں کے طلبہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں نسبتاً کمتر تعلیم مل رہی ہے۔ انہوں نے مختلف اسکولوں میں تعلیمی مواقع اور سہولتوں کے نمایاں فرق کو ایک بنیادی مسئلہ قرار دیا۔
ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر اسکولوں کی ناکہ بندی، جلتے کوڑے دانوں اور پولیس سے تصادم کی ویڈیوز نے تحریک کو مزید پھیلایا۔
پولیس کارروائی پر اس لیے بھی شدید تشویش ہے کہ مظاہرین کی بڑی تعداد پندرہ سے اٹھارہ سال کے طلبہ پر مشتمل ہے۔ پولیس نے آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور لاٹھیاں استعمال کیں۔ تور شہر میں بدھ کو جھڑپوں کے دوران زخمی ہونے والا ایک نوجوان اپنی دائیں آنکھ کی بینائی کھو بیٹھا، جس کی تصدیق مقامی پراسیکیوٹر نے کی۔
بعض مظاہرین نے پولیس پر اشیا پھینکیں اور آگ بھی لگائی۔ بیلفور میں نوجوانوں کے ایک گروہ نے ایک پولیس اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
حکومت نے بائیں بازو کی جماعت فرانس انبوڈ پر احتجاج بھڑکانے کا الزام لگایا، جسے جماعت نے مسترد کردیا۔ اس کے رہنما ژاں لوک میلانشوں نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے پُرامن احتجاج پر زور دیا ہے۔





