لاہور: منگل کے روز انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے قومی اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے فیصلے پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑیوں نے شدید حیرت اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ سابق کپتانوں محمد رضوان اور سلمان علی آغا کو گھر واپس بھیجا جا رہا ہے، جبکہ اپریل میں ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مقرر ہونے والے سرفراز احمد کی جگہ وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن کو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔
پاکستان انگلینڈ کے خلاف تین میچوں کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں اننگز اور 103 رنز جبکہ دوسرے میں 194 رنز سے شکست کے بعد 0-2 سے پیچھے ہے، اور ٹیم چاروں اننگز میں 200 سے زائد رنز بنانے میں ناکام رہی ہے۔
علی عثمان، عامر جمال، اویس ظفر اور خرم شہزاد کو بھی واپس بھیج دیا گیا ہے، جبکہ ان کی جگہ شامل کیے گئے کھلاڑی یا تو محض چند ٹیسٹ میچز کا تجربہ رکھتے ہیں یا پھر انہوں نے اب تک کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا۔
سابق کپتان رمیز راجہ نے کہا، ”یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کرکٹ شدید سراسیمگی کا شکار ہو چکی ہے۔“
سابق آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے کہا کہ انہیں ٹیسٹ سیریز کے لیے وائٹ بال کے کھلاڑیوں کو منتخب کرنے کی کوئی منطق یا جواز نظر نہیں آتا۔ آفریدی نے 'ایکس' پر لکھا، ”متبادل کھلاڑیوں کی شمولیت بھی سمجھ سے بالاتر ہے—کیا انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کے لیے ٹی 20 کے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے؟“
انہوں نے مزید لکھا، ”یہ کون سی سوچ اور اپروچ ہے؟ محض 5 ٹیسٹ میچوں بعد کوچ کو کیوں ہٹایا گیا؟ اتنے تجربہ کار سلیکٹرز پر مشتمل سلیکشن کمیٹی کا یہ اب تک کا سب سے حیران کن فیصلہ ہے۔“
2016 سے 2019 تک پاکستان ٹیم کے کوچ رہنے والے مکی آرتھر نے کہا کہ پی سی بی نے اگلے ہفتے ہونے والے تیسرے ٹیسٹ سے قبل ”انتہائی مضحکہ خیز فیصلے“ کیے ہیں، جبکہ سیریز میں وائٹ واش سے بچنے کے لیے پاکستان کا یہ میچ جیتنا لازمی ہے۔
انہوں نے لکھا، ”ان کی اس ابتر صورتحال کی وجہ یہی ہے کہ یہ مسلسل کھلاڑیوں، کوچز اور سلیکٹرز کو تبدیل کرتے رہتے ہیں اور ٹیم میں کوئی استحکام نہیں ہے۔“
پاکستان تین میچوں پر مشتمل سیریز کے پہلے دونوں ٹیسٹ میچز ہار چکا ہے۔





