تہران: ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اس نے عراق کے شہر اربیل میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون اور میزائلوں سے مشترکہ حملے کیے ہیں، جس کے ساتھ ہی تہران نے خطے میں امریکی افواج کے خلاف اپنی جوابی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں اربیل میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم امریکی یا عراقی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی رسمی تصدیق نہیں کی گئی۔ ایرانی حملوں کی اس تازہ لہر کے دوران اربیل میں ایک دھماکے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
مبینہ حملہ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے ایرانی فوجی اہداف پر فضائی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے ایئر ڈیفنس سائٹس، ریڈار سسٹمز، بحری اثاثے اور مائن بچھانے کی صلاحیتیں شامل تھیں۔
اس کے بعد سے ایران نے خطے بھر میں امریکہ سے منسلک ٹھکانوں، بشمول اردن، بحرین اور کویت پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ تصادم کی شدت میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایک سینئر ایرانی قانون ساز نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ امریکہ کو سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے واشنگٹن پر جنوبی ایران میں شادی کی ایک تقریب کو نشانہ بنانے اور شہریوں کو ہلاک و زخمی کرنے کا الزام عائد کیا۔
ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے کہا کہ کوہستک میں شادی پر مبینہ حملہ امریکہ کی ”مکمل بوکھلاہٹ“ کا ثبوت ہے اور یہ میناب اور لامرد میں اس کے سابقہ حملوں کا اعادہ ہے۔
عزیزی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا: ”ایران کے علاقے کوہستک میں شادی کو نشانہ بنانا اور بے گناہ شہریوں کا قتل عام انسانی حقوق کے نام نہاد محافظوں کی مکمل بے بسی کا حتمی ثبوت ہے۔“
انہوں نے مزید کہا: ”کوئی غلط فہمی میں نہ رہے؛ ان جرائم کو بلا سزا نہیں چھوڑا جائے گا۔ کوئی بھی چیز انہیں ایرانی مسلح افواج کے کچل دینے والے عزم سے نہیں بچا سکے گی۔“
ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملہ صوبہ ہرمزگان کے علاقے کوہستک میں ایک رہائشی مکان پر اس وقت ہوا جب وہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔





