ویب ڈیسک: صومالی قزاقوں کے قبضے میں چار ماہ سے زائد عرصے سے موجود 10 پاکستانی ملاحوں کے اہل خانہ نے کراچی میں وزارت خارجہ کے رابطہ دفتر کے باہر احتجاج کیا اور حکومت سے اپنے پیاروں کی محفوظ واپسی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
یہ ملاح پاناما کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کے 17 رکنی عملے میں شامل ہیں۔ جہاز کو 21 اپریل کو صومالیہ کے علاقے پنٹ لینڈ کے قریب مسلح قزاقوں نے قبضے میں لے لیا تھا۔ عملے میں انڈونیشیا، بھارت اور سری لنکا کے شہری بھی شامل ہیں۔
اہل خانہ اس معاملے پر کراچی میں کئی مرتبہ احتجاج کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ملاحوں کی حالت کے بارے میں محدود معلومات مل رہی ہیں اور کئی ہفتوں سے ان سے براہ راست رابطہ بھی مشکل رہا ہے۔ بعض اہل خانہ نے واضح کیا ہے کہ اگر انہیں صورتحال کے بارے میں واضح معلومات نہ ملیں تو وہ بھوک ہڑتال شروع کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
حالیہ احتجاج شاہراہ فیصل پر وزارت خارجہ کے رابطہ دفتر کے باہر رات بھر جاری رہا۔ پیر کی صبح پولیس نے دھرنا ختم کرا دیا اور بعض مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ مختلف رپورٹس میں حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد مختلف بتائی گئی، تاہم پولیس نے تصدیق کی کہ حراست میں لیے گئے افراد کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین سے احتجاج کسی مقررہ مقام پر منتقل کرنے کے لیے بات چیت کی گئی تھی۔
اہل خانہ کی جانب سے احتجاج ایسے وقت میں جاری ہے جب ملاحوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کے بارے میں معلومات محدود ہیں۔ خاندانوں کے قانونی نمائندوں کے مطابق رہائی کی کوششوں میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم مذاکرات کی تفصیلات عوامی سطح پر سامنے نہیں آئی ہیں۔
پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ ملاحوں کی رہائی کے لیے سفارتی اور انسانی بنیادوں پر کوششیں جاری ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس معاملے پر عالمی میری ٹائم تنظیم کے حکام سے بھی بات کی ہے۔
قزاقی کا یہ واقعہ بحیرہ احمر، خلیج عدن اور صومالیہ کے قریب سمندری راستوں میں ملاحوں کو درپیش خطرات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ لیکن ان خاندانوں کے لیے اس وقت سب سے اہم سوال ایک ہی ہے: ان کے پیارے محفوظ ہیں یا نہیں، اور انہیں گھر کب واپس لایا جائے گا۔





