ویب ڈیسک: جرمن سپورٹس ویئر کمپنی ایڈیڈاس کو اسرائیل میں اپنی نئی "سنگل شو سروس" مہم کا چہرہ ایک سابق اسرائیلی فوجی شالیف بیٹن کو بنانے پر شدید عوامی غصے اور عالمی سطح پر بائیکاٹ کے مطالبات کا سامنا ہے۔ معذور افراد کے لیے شروع کی گئی اس سہولت کے تحت ٹانگ یا پاؤں سے محروم افراد پورے جوڑے کے بجائے نصف قیمت پر ایک جوتا خرید سکتے ہیں تاکہ جنہیں صرف ایک جوتے کی ضرورت ہو ان پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔ 2021 میں اپنی بائیں ٹانگ گنوانے والے سابق اسرائیلی فوجی بیٹن نے 26 اگست کو اس مہم میں اپنی شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے اسے ایک ذاتی کامیابی اور شمولیت پر مبنی کارپوریٹ کلچر کی جانب پیش رفت قرار دیا۔
تاہم اسرائیل میں مہم کے آغاز کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور ممتاز شخصیات نے انسان دوست کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کا تاثر دینے کے لیے اسرائیلی فوج کے ایک سابق اہلکار کے انتخاب پر ایڈیڈاس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ناقدین نے بیٹن کی اس مہم میں شمولیت اور غزہ میں ہونے والی شدید انسانی تباہی کے درمیان واضح تضاد کی نشاندہی کی، جہاں عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی عسکری حملوں کے نتیجے میں 5 ہزار سے زائد افراد اپنے ہاتھ یا پاؤں سے محروم ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین اور معروف مصنفین نے ہیش ٹیگ بائیکاٹ ایڈیڈاس کے تحت مہم چلاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ معذور افراد کی مدد کے لیے ایک ایسی فوج کے سابق اہلکار کا انتخاب کیوں کیا گیا جو عام شہریوں کی معذوری کی ذمہ دار ہے؟
اس خطے سے متعلق ایڈیڈاس کو درپیش تعلقاتِ عامہ (پی آر) کے مسائل میں یہ تازہ ترین تنازع ہے۔ 2024 میں بھی اس برانڈ کو اسرائیل حامی گروہوں کے دباؤ پر فلسطینی نژاد امریکی ماڈل بیلا حدید کو ایک اشتہاری مہم سے ہٹانے پر عالمی سطح پر شدید مذمت کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس پر بعد میں کمپنی نے معافی مانگی تھی۔ بیٹن کی شمولیت پر عوامی تنقید اور بائیکاٹ کے مطالبات کے وائرل ہونے کے باوجود ایڈیڈاس نے فی الحال اس تنازع پر کوئی سرکاری ردِعمل جاری نہیں کیا ہے۔




