ویب ڈیسک: جیسے جیسے روزمرہ زندگی کا زیادہ حصہ انٹرنیٹ پر منتقل ہو رہا ہے، پاکستان میں سائبر کرائم کا قانون عام صارفین، سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں اور کاروباری اداروں کے لیے بھی اہم ہوتا جا رہا ہے۔ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016، جسے پی ای سی اے کہا جاتا ہے، ڈیجیٹل نظام اور آن لائن رابطوں کے ذریعے ہونے والے مختلف جرائم کو قابل سزا قرار دیتا ہے۔ اس قانون میں 2025 میں بھی ترامیم کی گئیں، جن کے تحت تحقیقاتی نظام میں تبدیلیاں کی گئیں اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی قائم کی گئی۔
آن لائن ہراسانی اور سائبر اسٹاکنگ قانون میں شامل اہم جرائم ہیں۔ دفعہ 24 کے تحت کسی شخص کی مرضی کے خلاف بار بار رابطہ کرنا، اس کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کرنا یا بعض حالات میں اس کی تصویر یا ویڈیو بغیر اجازت پھیلانا جرم بن سکتا ہے۔ بالغ متاثرہ شخص کے معاملے میں تین سال تک قید، 10 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ نابالغ کے معاملے میں سزا زیادہ سخت ہو سکتی ہے۔
قانون جنسی نوعیت کے واضح مواد کے ذریعے ہراسانی اور بلیک میلنگ کو بھی جرم قرار دیتا ہے۔ دفعہ 21 کے تحت کسی شخص کو نقصان پہنچانے، بدنام کرنے، دھمکانے یا بلیک میل کرنے کے لیے ایسا مواد پھیلانے پر پانچ سال تک قید، 50 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اگر متاثرہ شخص نابالغ ہو تو قید سات سال تک ہو سکتی ہے اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
بچوں سے متعلق سائبر جرائم پر قانون میں خاصی سخت سزائیں مقرر ہیں۔ دفعہ 22 کے تحت چائلڈ پورنوگرافی پر سات سے 20 سال تک قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ آن لائن گرومنگ، بچوں کے جنسی استحصال اور نابالغوں کے اغوا یا اسمگلنگ میں ڈیجیٹل نظام کے استعمال سے متعلق بھی الگ دفعات موجود ہیں۔
دیگر جرائم میں غیر مجاز طور پر معلومات تک رسائی، شناخت کا غلط استعمال، الیکٹرانک جعل سازی، الیکٹرانک فراڈ، نقصان دہ کوڈ، اسپیم اور جعل سازی کے ذریعے کسی دوسرے ذریعہ یا ویب سائٹ کی نقل کرنا شامل ہیں۔ ہر جرم کی سزا مختلف ہے۔ مثال کے طور پر شناختی معلومات کے غیر مجاز استعمال پر تین سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ جبکہ نقصان دہ کوڈ پر دو سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
قانون میں زیادہ سنگین جرائم بھی شامل ہیں۔ کسی جرم کی تشہیر یا اسے قابل فخر بنا کر پیش کرنا سات سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانے کا باعث بن سکتا ہے۔ سائبر دہشت گردی پر اس سے کہیں زیادہ سخت سزائیں مقرر ہیں، جبکہ آن لائن نفرت انگیز تقریر بھی قابل سزا جرم ہو سکتی ہے۔
2025 میں قانون میں دفعہ 26 اے بھی شامل کی گئی، جس کے تحت ایسی جھوٹی یا جعلی معلومات جان بوجھ کر پھیلانا جو خوف، افراتفری، بدامنی یا بے چینی پیدا کر سکتی ہوں، جرم بن سکتا ہے۔ اس پر تین سال تک قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
تاہم ہر ناخوشگوار یا توہین آمیز آن لائن گفتگو لازماً سائبر کرائم نہیں ہوتی۔ جرم کا تعین واقعے کے حقائق، نیت، دستیاب شواہد اور قانون کی متعلقہ دفعہ کے تحت کیا جاتا ہے۔
آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ، شناخت کے غلط استعمال یا کسی دوسرے سائبر جرم کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے اسکرین شاٹس، پیغامات، اکاؤنٹ کی تفصیلات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد محفوظ رکھنا اہم ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں سائبر کرائم کا قانون صرف ہیکنگ تک محدود نہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی کی رازداری، عزت، سلامتی یا ذاتی تحفظ کو نقصان پہنچانے والے مختلف اقدامات بھی قانون کے دائرے میں آ سکتے ہیں، اس لیے آن لائن دنیا میں اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہی پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔




