اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن کے اسلام آباد چیپٹر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے اسلام آباد کو صوبائی حیثیت دینے کی تجویز کی حمایت کر دی ہے۔ اس حمایت سے دارالحکومت کے انتظامی نظام میں تبدیلی کی بحث کو مزید تقویت ملی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین اور اسلام آباد سے ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی راجہ خرم شہزاد نواز نے کہا کہ اسلام آباد کو صوبائی حیثیت دینا دارالحکومت کے رہائشیوں کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں اسلام آباد کی اپنی صوبائی اسمبلی بھی ہو گی۔
تجویز کے تحت اسلام آباد اسمبلی کے ارکان کی تعداد 27 ہو گی۔ ان میں 21 براہ راست منتخب ارکان، خواتین کی پانچ مخصوص نشستیں اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست شامل ہو گی۔ اسمبلی اپنا چیف ایگزیکٹو منتخب کرے گی، جسے وزیراعلیٰ یا میئر کہا جا سکتا ہے، جبکہ چیف کمشنر کا عہدہ ختم کر کے چیف سیکریٹری تعینات کرنے کی تجویز ہے۔
تجویز کے مطابق بیشتر محکمے اسمبلی کے ماتحت ہوں گے، تاہم امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے اختیارات وفاقی حکومت کے پاس رہیں گے۔ اس منصوبے کی ایک بڑی وجہ اسلام آباد کے لیے قومی مالیاتی کمیشن یعنی این ایف سی میں حصہ لینے کا مطالبہ بھی ہے۔ ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے شہری مختلف ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن انہیں این ایف سی میں حصہ نہیں ملتا۔
یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک بھر میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سیاسی بحث جاری ہے۔ پیپلز پارٹی نے نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی اور پارلیمانی طریقہ کار اختیار کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر علی خان نے بھی جلد بازی میں فیصلہ کرنے سے خبردار کیا ہے۔
اسلام آباد کو صوبائی طرز کا نظام دینے کی تجویز سے مقامی حکومت کے انتخابات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن اس وقت نئی حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کر رہا ہے اور حتمی حلقوں اور یونین کونسلوں کی تفصیلات 14 اکتوبر کو جاری کرنے کا شیڈول ہے۔ تاہم نئے نظام کی صورت میں قانون اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں درکار ہو سکتی ہیں، جس سے انتخابات مزید تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔
اسلام آباد میں فروری 2021 میں گزشتہ مقامی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد سے منتخب بلدیاتی حکومت موجود نہیں۔ اس دوران مختلف حکومتوں نے انتخابات کے لیے قوانین اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں کیں، جس کے باعث انتخابات بار بار مؤخر ہوتے رہے۔
اب اصل سوال صرف یہ نہیں کہ اسلام آباد صوبہ بنے گا یا نہیں۔ اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا نئی انتظامی ساخت دارالحکومت کے تقریباً 25 لاکھ شہریوں کو بہتر نمائندگی اور خدمات دے گی، یا ایک اور تبدیلی مقامی حکومت کے انتخابات کو مزید پیچھے دھکیل دے گی۔





