اسلام آباد: پاکستان نے نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے 100 ٹن امداد روانہ کر دی ہے۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں نیپال میں 1,300 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ ہزاروں افراد لاپتا ہیں۔
قومی ادارہ برائے قدرتی آفات کی نگرانی میں تیار کیا گیا امدادی سامان خصوصی پرواز کے ذریعے اسلام آباد سے کھٹمنڈو پہنچایا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس امداد کا مقصد آفت سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی فوری ضروریات پوری کرنا ہے۔
امدادی سامان میں خیمے، کمبل، چٹائیاں، حفظان صحت کی کٹس اور ادویات شامل ہیں۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر امدادی سامان روانہ کرنے کی تقریب میں وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، نیپال کی سفیر ریتا ڈھیتال اور دفتر خارجہ و قومی ادارہ برائے قدرتی آفات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ امداد مشکل وقت میں نیپال کی حکومت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی متاثرہ افراد سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں مزید ممکنہ مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب نیپال میں امدادی کارروائیاں بارہویں روز میں داخل ہو گئی ہیں۔ خراب موسم، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی مشکلات کے باعث امدادی ٹیموں کو کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
نیپال میں 1,300 سے زیادہ لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں چار افراد کو زندہ بھی نکالا گیا ہے، جن میں تین افراد پن بجلی منصوبوں کی سرنگوں سے ملے۔
قدرتی آفت سے کم از کم 12 پن بجلی منصوبے متاثر ہوئے ہیں جبکہ سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
اقوام متحدہ نے متاثرہ 84,000 سے زیادہ افراد کی مدد کے لیے 50 ملین ڈالر کی اپیل کی ہے۔ نیپال میں امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو بھی اہم ترجیحات بن گئی ہیں۔





