برسلز: لکسمبرگ ایئرپورٹ پر ڈرون سرگرمی، یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کے جائزے اور نیٹو کے مشرقی حصے میں نئے حفاظتی اقدامات نے یورپ کے بدلتے سکیورٹی ماحول کو نمایاں کر دیا ہے۔
لکسمبرگ کے فِنڈل ایئرپورٹ پر جمعہ کو غیر مجاز ڈرونز کی موجودگی کے بعد پروازیں عارضی طور پر روک دی گئیں۔ لندن سے آنے والی ایک پرواز کا رخ بیلجیم کی جانب موڑ دیا گیا، جبکہ ہفتے کی صبح پروازوں کا آپریشن بحال کر دیا گیا۔ حکام نے ڈرونز چلانے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب چند روز قبل نیٹو کے جنگی طیاروں نے ایک ڈرون کو لتھوانیا کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد مار گرایا تھا۔ لتھوانیا کے مطابق ڈرون میں دھماکا خیز مواد موجود تھا اور اسے نیٹو کی بالٹک فضائی نگرانی کے مشن پر مامور اطالوی یورو فائٹرز نے نشانہ بنایا۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
تاہم لتھوانیا کے صدر گیتاناس نوسیدا نے بعد میں کہا کہ امکان ہے ڈرون کا اصل رخ یوکرین کی جانب تھا اور الیکٹرانک وارفیئر کے باعث وہ راستے سے بھٹک گیا۔ اس لیے یہ واقعہ بذات خود لتھوانیا پر روسی حملے کا ثبوت نہیں ہے۔
اسی دوران بیلاروس نے 15 سے 18 ستمبر تک پولینڈ اور لتھوانیا کی سرحدوں کے قریب فوجی مشقیں کیں۔ ان مشقوں میں ٹینک، مشینی یونٹس اور ڈرون مخالف کارروائیاں شامل تھیں جبکہ کچھ سرگرمیاں سووالکی گیپ کے قریب ہوئیں۔ یہ تقریباً 104 کلومیٹر طویل زمینی راستہ پولینڈ اور لتھوانیا کو ملاتا ہے اور بالٹک ریاستوں کو باقی نیٹو سے زمینی رابطہ فراہم کرتا ہے۔ بیلاروس نے مشقوں کو دفاعی قرار دیا۔
پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے بھی خبردار کیا ہے کہ پولینڈ، یوکرین اور نیٹو کے درمیان شیئر کی گئی انٹیلی جنس کے مطابق روس مستقبل میں یوکرین کی حمایت کرنے والے ممالک کے خلاف ڈرون یا میزائل حملے کر سکتا ہے اور انہیں حادثات کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ یہ پولش حکام کا سکیورٹی جائزہ ہے، کسی حملے کے حکم یا فوری خطرے کا ثبوت نہیں۔
فرانس میں صدر ایمانوئل میکرون نے بھی روس سے منسوب ہائبرڈ خطرے میں اضافے کی بات کرتے ہوئے اہم تنصیبات اور دفاعی پیداوار کے مراکز کے تحفظ کے اقدامات بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ ہائبرڈ خطرات میں سائبر حملوں، تخریب کاری، ڈرون کارروائیوں اور دیگر غیر روایتی طریقوں کا استعمال شامل ہو سکتا ہے۔
جرمنی پہلے ہی اگست میں لائپزگ ہالے ایئرپورٹ پر دھماکا خیز ڈرون حملے کی کوشش کی ذمہ داری روس پر عائد کر چکا ہے۔ جرمن حکام کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ انٹیلی جنس اور پولیس تحقیقات کی بنیاد پر اخذ کیا گیا، جبکہ ماسکو نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔





