ویب ڈیسک: مصر نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تازہ کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
مصر کی وزارت خارجہ نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو نشانہ بنانے والے حملوں کو خطرناک کشیدگی قرار دیا اور کہا کہ یہ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔
قاہرہ نے شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی مصر اور پوری عرب دنیا کی قومی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔
مصر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی حکام کے مطابق جنوبی سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ حملوں کے باعث کئی توانائی تنصیبات میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں اور بعض مقامات پر کام عارضی طور پر متاثر ہوا۔
حوثیوں نے سعودی اہداف پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جبکہ سعودی حکام نے ان حملوں کو خطرناک کشیدگی قرار دیتے ہوئے جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ جازان میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم نقصان کی مکمل تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
مصر کا ردعمل خطے کے دیگر ممالک میں بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتا ہے کہ یمن میں جاری لڑائی مزید پھیل سکتی ہے اور علاقائی استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔
قاہرہ نے شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے سعودی عرب کو اپنی سلامتی کے لیے لاحق خطرات سے نمٹنے میں حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں مزید اہم ہو جاتی ہے جب بحیرہ احمر اور اس کے اطراف میں بڑھتی کشیدگی پہلے ہی علاقائی تجارت اور سلامتی کے لیے خدشات پیدا کر رہی ہے۔ مصر کے لیے یہ معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ بحیرہ احمر اس کی معاشی اور تزویراتی سلامتی سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔





