کراچی: ملک بھر کی ممتاز کاروباری تنظیموں نے وفاقی حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کے موجودہ نظام پر نظرثانی کرنے اور ایندھن کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ترمیم کی پالیسی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تجارتی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ قیمتوں میں روزمرہ کے اتار چڑھاؤ سے پیداواری لاگت کا درست تخمینہ لگانے اور طویل المدتی کاروباری منصوبہ بندی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس سے معاشی استحکام کے بجائے شدید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت پیٹرول کی ریٹیل قیمت کا تقریباً 37 فیصد اور ڈیزل کی قیمت کا 31 فیصد ٹیکسوں، ڈیوٹیز اور سرکاری لیوی پر مشتمل ہے، جس سے تجارتی سرگرمیوں اور مہنگائی سے متاثرہ صارفین دونوں پر بھاری بوجھ پڑ رہا ہے۔ صنعت کے نمائندوں نے تین دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب تقریباً 22 اور 14 روپے کے حالیہ اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت سے زور دیا ہے کہ وہ قیمتوں کے تعین کے لیے 15 روزہ جائزے جیسا شفاف اور قابلِ اندازہ نظام اختیار کرے۔
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی)، سائیٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صنعتی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تیل منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور بھاری ملکی ٹیکسز مل کر پاکستان کی برآمدی مسابقت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، تجارتی خسارے میں اضافہ کر رہے ہیں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو شدید پریشانی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔





