ویب ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
بدھ کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت 2.15 ڈالر یعنی 2.2 فیصد اضافے کے بعد 100.07 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 1.83 فیصد بڑھ کر 94.73 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ برینٹ کی قیمت 24 جولائی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر سے اوپر گئی ہے۔
خام تیل کی قیمت میں حالیہ اضافہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث ہوا ہے۔ اگست کے آغاز سے برینٹ کی قیمت تقریباً ایک چوتھائی بڑھ چکی ہے کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
اس ہفتے یمن کے ایران سے منسلک حوثیوں کے سعودی عرب میں توانائی کے مراکز پر حملوں نے بھی خدشات میں اضافہ کیا۔ حملوں کے نتیجے میں بعض تنصیبات میں آگ لگی اور بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا۔
یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل پہلے ہی نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔ رائسٹڈ انرجی کے مطابق 30 اگست کو لڑائی دوبارہ شروع ہونے سے پہلے ایک ہفتے کے دوران تقریباً 80 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل یومیہ تیل آبنائے ہرمز سے گزرا تھا، جبکہ حالیہ دنوں میں یہ مقدار 20 لاکھ بیرل یومیہ سے بھی کم رہی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شامل ہے۔ اگر یہاں سے تیل کی ترسیل طویل عرصے تک متاثر رہتی ہے تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے اور تیل درآمد کرنے والے ممالک میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔
گولڈمین ساکس، بینک آف امریکا اور ایچ ایس بی سی سمیت کئی بڑے بینکوں نے حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کے اپنے اندازے بڑھائے ہیں۔ دوسری جانب امریکا، کینیڈا اور گیانا سمیت بعض تیل پیدا کرنے والے ممالک نے پیداوار میں اضافہ کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق عالمی توانائی ایجنسی نے رواں سال عالمی تیل کی مجموعی رسد میں تقریباً 43 لاکھ بیرل یومیہ کمی کی توقع ظاہر کی ہے، جو تقریباً چار فیصد بنتی ہے۔
عام صارفین کے لیے 100 ڈالر کی سطح صرف ایک علامتی قیمت نہیں۔ اگر تیل کی ترسیل میں رکاوٹ برقرار رہتی ہے تو خام تیل مہنگا ہونے سے پٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ اور خوراک کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔





