ایف بی آر نے برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس ختم کر دیا
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مقررہ شرائط کی تکمیل پر 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
منگل کے روز جاری کردہ انکم ٹیکس وضاحتی سرکلر 2 مجریہ 2026ء کے مطابق، اس ترمیم سے جدول میں درج مخصوص افراد کے علاوہ 50 کروڑ روپے تک کی آمدن والے ہر شخص کے لیے سپر ٹیکس ختم ہو گیا ہے۔ تاہم سیکنڈ شیڈول کے پارٹ IV میں نئی شق (104B) کا اضافہ کرتے ہوئے، 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے برآمد کنندگان کے لیے بھی سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، بشرطیکہ ٹیکس سال میں حاصل ہونے والی برآمدی آمدن اس سال برآمد کنندہ کے کل ٹرن اوور کے 80 فیصد سے زیادہ ہو۔
مزید برآں، مذکورہ افراد کے علاوہ دیگر جن اشخاص کی آمدن 50 کروڑ روپے سے زائد ہے، ان کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔
سیکشن 177 میں ایک نیا سب سیکشن (68) شامل کیا گیا ہے جس کے تحت کمشنر - کھاتوں کی نوعیت و پیچیدگی، حجم، درستگی پر شبہات، لین دین کی کثرت یا ٹیکس گزار کے کاروبار کی مخصوص نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، اور ٹیکس دہندہ کو سماعت کا مناسب موقع دینے اور چیف کمشنر کی پہلے سے منظوری کے بعد - یہ ہدایت دے سکتا ہے کہ بورڈ کے نامزد کردہ پینل میں سے کھاتوں کا دوبارہ آڈٹ کسی اکاؤنٹنٹ سے، انوینٹری کی ازسرنو قدر کا تعین کاسٹ اکاؤنٹنٹ سے، یا کھاتوں کی ایکچوئریل اقدار کا تعین کسی ایکچوئری سے کرایا جائے۔ رجسٹرڈ شخص کو کسی مخصوص اکاؤنٹنٹ یا کاسٹ اکاؤنٹنٹ کی نامزدگی پر اعتراض کا حق دینے کے لیے بھی ایک طریقہ کار فراہم کیا گیا ہے۔
سیکشن 182A کے سب سیکشن (1) کی شق (a) کے شرطیے میں ایکٹیو ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل نہ ہونے والے افراد کی واجب الادا سرچارج رقم میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق، ایک نیا سب سیکشن (3) بھی شامل کیا گیا ہے جس کی رو سے سرچارج کی ادائیگی کی شرائط کا اطلاق ایسے فرد پر نہیں ہوگا جو کمشنر کے سامنے یہ حلف نامہ جمع کرائے کہ وہ حلف نامہ جمع کرانے کی تاریخ سے چھ ماہ کی مدت تک کسی بھی جائیداد کی ملکیت یا مفاد حاصل نہیں کرے گا۔





