اسلام آباد: پاکستان کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں زیر تعلیم تقریباً 1000 افغان طلبہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ پہلے سے داخل طلبہ کو افغانستان واپسی کی ہدایات سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
طلبہ کے ترجمان اور خیبر میڈیکل کالج کے آخری سال کے ایم بی بی ایس طالب علم عنایت اللہ مومند کے مطابق ان میں تقریباً 350 طالبات بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق مزید تقریباً 200 افغان طلبہ ایسے ہیں جو ہاؤس جاب مکمل کرچکے ہیں اور اسپیشلائزیشن پروگراموں میں داخلے کے منتظر ہیں۔
یہ اپیل پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل یعنی پی ایم ڈی سی کی یکم ستمبر کی ہدایت کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں سے افغان طلبہ کی افغانستان واپسی میں ضروری انتظامی کارروائی مکمل کرنے کو کہا گیا تھا۔
طلبہ کا مطالبہ ہے کہ جو افراد پہلے ہی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں داخل ہوچکے ہیں، انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دی جائے۔ مومند کے مطابق کئی طلبہ قانونی ویزوں پر پاکستان آئے، جبکہ کچھ اسکالرشپس، افغان نیشنل سیٹس یا افغان طلبہ کے لیے پاکستان کے ٹیکنیکل اسسٹنس پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
معاملے کا حساس پہلو طالبات کی تعلیم ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ افغانستان واپسی کی صورت میں خواتین کے لیے موجود تعلیمی پابندیوں کے باعث کئی طالبات اپنی میڈیکل تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں گی۔
ایک طالبہ نے بتایا کہ وہ پاکستان میں علامہ اقبال اسکالرشپ پر آئی تھی تاکہ اپنی میڈیکل تعلیم مکمل کرکے افغانستان واپس جاکر خواتین کی خدمت کرسکے۔ تاہم موجودہ صورتحال نے اس کے ڈاکٹر بننے کے خواب کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ واپسی کی صورت میں ان کے تعلیمی مستقبل کے بارے میں بھی سوالات موجود ہیں۔ مومند کے مطابق پاکستان میں افغان سفیر نے طلبہ کو بتایا تھا کہ واپسی کی صورت میں انہیں افغانستان کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلہ دیا جاسکتا ہے۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ وہ پاکستان میں شروع کی گئی تعلیم مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
معاملہ عدالت تک بھی پہنچ چکا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے 31 جولائی اور یکم ستمبر کو افغان طلبہ سے متعلق پی ایم ڈی سی کی ہدایات کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔ طلبہ کے مطابق اس فیصلے سے وقتی ریلیف ملا ہے لیکن مستقل حل ابھی باقی ہے۔
اس دوران بعض تعلیمی اداروں میں افغان طلبہ کو واپسی کی ہدایات کا سامنا بھی ہے۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم 22 افغان طلبہ میں سے ایک کے مطابق یونیورسٹی نے 7 ستمبر کو انہیں کیمپس خالی کرنے کا حکم دیا۔
افغان طلبہ کے لیے یہ معاملہ اب صرف پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کا نہیں بلکہ اس سوال کا بھی ہے کہ پالیسی تبدیل ہونے سے پہلے داخل ہونے والے طلبہ کو اپنی شروع کی ہوئی تعلیم مکمل کرنے کا موقع ملے گا یا نہیں۔





