اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں چار سے دس اکتوبر تک عالمی خلائی ہفتہ منایا جارہا ہے۔ رواں سال کا موضوع ’’راکٹ ٹیکنالوجی میں انقلاب‘‘ ہے، جس کے ذریعے خلا تک رسائی میں آنے والی تبدیلیوں کو اجاگر کیا جارہا ہے۔
اس موضوع میں راکٹ اور خلائی مشن روانہ کرنے کی ٹیکنالوجی میں ترقی، نئے مشنز کے امکانات اور خلائی معیشت میں زیادہ لوگوں اور اداروں کی شرکت پر توجہ دی گئی ہے۔
پاکستان میں سپارکو عالمی خلائی ہفتے کی سرگرمیوں کی قومی سطح پر رابطہ کاری کررہا ہے۔ پروگرام میں اسکولوں کے مقابلے، آن لائن سیمینار، راکٹ ڈیزائن کرنے کی سرگرمیاں، فلکیاتی عکاسی اور طلبہ و اساتذہ کے لیے تعلیمی مواد شامل ہیں۔
ان سرگرمیوں کا مقصد نوجوانوں میں سائنسی تجسس پیدا کرنا اور سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی میں دلچسپی بڑھانا ہے۔ ساتھ ہی یہ بتایا جارہا ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی میں کس طرح کام آتی ہے۔
مصنوعی سیارے مواصلات، راستوں کی نشاندہی، زمین کے مشاہدے اور ماحول کی نگرانی میں مدد دیتے ہیں۔ پاکستانی پروگرام میں قدرتی آفات سے نمٹنے، زراعت اور پائیدار ترقی میں ان کے استعمال کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
عالمی خلائی ہفتے کی تاریخیں دو اہم واقعات کی یاد دلاتی ہیں۔ چار اکتوبر انیس سو ستاون کو سوویت یونین نے اسپوتنک ون روانہ کیا، جو زمین کے گرد مدار میں پہنچنے والا پہلا مصنوعی سیارہ تھا۔
دس اکتوبر انیس سو سڑسٹھ کو بیرونی خلا سے متعلق معاہدہ نافذ ہوا، جس نے خلا کی تلاش اور استعمال کے بنیادی اصول متعین کیے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انیس سو ننانوے میں عالمی خلائی ہفتہ منانے کا اعلان کیا تھا، تاکہ انسانی بہبود میں خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے کردار کو تسلیم کیا جاسکے۔
پاکستان میں منتظمین نے طلبہ، اساتذہ، محققین اور خلا میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو سرگرمیوں میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ یہ ہفتہ خلائی تحقیق کو زمین پر موجود ضروریات اور مسائل سے جوڑ کر سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔





