آج دنیا کو دیکھتے ہوئے ایک عجیب سی تھکن محسوس ہوتی ہے۔ صرف اس لیے نہیں کہ تکلیف بہت زیادہ ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس میں سے بہت سی تکلیف سے بچا جا سکتا ہے۔
جنگیں مسلسل زندگیاں نگل رہی ہیں۔ سیلاب، آگ اور موسمیاتی تبدیلی سے جڑی دوسری آفات لوگوں کے گھر اور روزگار چھین رہی ہیں۔ معاشی نابرابری طے کرتی ہے کہ کون خوراک، تعلیم، علاج، بلکہ اب تو سر پر چھت بھی حاصل کر سکتا ہے۔ معاشروں کے لیے یہ بوجھ پہلے ہی بہت بھاری ہیں۔
اور پھر سڑکوں پر نکلنے والے لوگ ہیں۔
فرانس سے اسپین اور بھارت سے پاکستان تک، لوگ ایسے مطالبات لے کر باہر آ رہے ہیں جو سیاسی نعروں سے الگ کر کے دیکھیں تو بہت بنیادی لگتے ہیں: بہتر اسکول، مناسب قیمت پر رہائش، نمائندگی، معاشی ریلیف، سیاسی حقوق اور عزت سے جینے کا حق۔ ان ملکوں کے حالات مختلف ہیں اور انہیں زبردستی ایک جیسا قرار نہیں دینا چاہیے۔ پھر بھی ایک بات مشترک دکھائی دیتی ہے: شہری کہہ رہے ہیں کہ موجودہ نظام ان کی ضروریات پوری نہیں کر رہا، جبکہ ادارے ان کے غصے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، بعض اوقات طاقت کے ذریعے۔
فرانس اس وقت شاید اس کی سب سے دل دکھانے والی مثال ہے۔
پیرس کے کم سہولتوں والے نواحی علاقوں میں طلبہ سے شروع ہونے والا احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا ہے۔ ان کے مطالبات کسی انقلاب کے نہیں: کھچا کھچ بھری جماعتیں، خستہ حال اسکول اور اساتذہ اور معاون عملے کی کمی۔ بعض مظاہروں میں تشدد ہوا ہے۔ املاک کو نقصان پہنچا اور پولیس اور تعلیمی عملے پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ایسے تشدد کو روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
لیکن 5000 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں بہت سے نوعمر ہیں۔ آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال ہوئی ہیں، مظاہرین شدید زخمی ہوئے ہیں اور پولیس تشدد کے الزامات پر تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔ ان جھڑپوں کے پیچھے وہ بچے بھی ہیں جو پوچھ رہے ہیں کہ ان کی تعلیم کا معیار اس بات پر کیوں منحصر ہو کہ وہ کس محلے میں پیدا ہوئے تھے۔
اسپین میں احتجاج کی وجہ مختلف ہے، مگر لوگوں کی بے بسی جانی پہچانی ہے۔
میڈرڈ میں ایک 87 سالہ خاتون کو اس گھر سے بے دخل کیا جانا، جہاں وہ کئی دہائیوں سے رہ رہی تھیں، رہائش کے بحران کی علامت بن گیا۔ یہی بحران دسیوں ہزار افراد کو سڑکوں پر لے آیا ہے۔ دس برس میں اوسط کرائے تقریباً دوگنا ہو چکے ہیں۔ پارلیمان نے ایسے ہنگامی اقدامات مسترد کر دیے ہیں جن کا مقصد بے دخلی کے خطرے سے دوچار کرایہ داروں کو تحفظ دینا اور جائیداد کی قیمتیں بڑھنے سے منافع کمانے کے لیے خرید و فروخت کو محدود کرنا تھا۔ تقریباً 50 شہروں میں زیادہ تر مظاہرے پُرامن رہے، تاہم ویلنسیا میں جھڑپوں کے دوران پولیس نے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔
بھارت میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف احتجاج کے دوران بار بار لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ اہل ووٹروں کے نام نکال دیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد ایک سے زیادہ بار درج ناموں، وفات پا جانے والے افراد اور نااہل ووٹروں کے اندراج ختم کرنا ہے۔ اس نے حکام کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ غلطی سے خارج ہونے والے اہل ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کیے جائیں۔ بعض مظاہرین نے رکاوٹیں عبور کیں، جبکہ پولیس نے اجتماعات محدود کیے اور مظاہرین کو حراست میں لیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس ردعمل پر تشویش ظاہر کی ہے۔
پاکستان ان مناظر کو یوں نہیں دیکھ سکتا جیسے یہ صرف دوسرے ملکوں کی کہانی ہو۔
یہاں بھی سیاسی احتجاج، حقوق کی تحریکیں اور مرکزی توجہ سے دور علاقوں کے مظاہرے بارہا رکاوٹوں، گرفتاریوں، مواصلاتی پابندیوں اور ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے الزامات سے ٹکرائے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اجتماع اور اظہار کی آزادی پر پابندیوں کے بارے میں خدشات درج کیے ہیں۔ دوسری طرف ریاست کو حقیقی سلامتی کے خطرات اور احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات کا بھی سامنا ہے۔ دونوں حقیقتیں ایک ساتھ موجود ہیں۔ ایک کو تسلیم کرنے کے لیے دوسری سے انکار ضروری نہیں۔
شاید احتجاج پر ہماری گفتگو اسی مقام پر غلط سمت اختیار کر لیتی ہے۔
ہم بہت جلد اسے دو مخالف خانوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ مظاہرین یا پولیس۔ امن یا انتشار۔ حکومت یا اپوزیشن۔ محب وطن یا اختلاف کرنے والا۔
لیکن جمہوریت کا مطلب کبھی یہ نہیں تھا کہ شہریوں کو ریاست سے ہر بات پر اتفاق کرنا ہوگا۔ اس کا زیادہ مشکل امتحان یہ ہے کہ کیا ادارے اختلاف کو فوراً خطرہ سمجھے بغیر برداشت کر سکتے ہیں؟
اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر احتجاج پُرامن ہے، ہر مطالبہ مناسب ہے یا حکومت کا ہر ردعمل ناجائز ہے۔ ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو تشدد سے بچائیں۔ پولیس اہلکار بھی شہری ہیں۔ جمہوری برداشت کے نام پر ان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ پتھر، آگ یا جسمانی حملے برداشت کرتے رہیں۔
لیکن امن قائم رکھنے کے لیے طاقت کا استعمال آخری راستہ ہونا چاہیے۔ اسے سیاسی سطح پر لوگوں کی بات سننے کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
یہ فرق ایک ایسی دنیا میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے جو پہلے ہی غیر معمولی دباؤ میں ہے۔
لوگ ان جنگوں کے درمیان جی رہے ہیں جو انہوں نے نہیں چنیں، ان معاشی فیصلوں کے نتائج بھگت رہے ہیں جو انہوں نے نہیں کیے، اور ان موسمیاتی آفات کا سامنا کر رہے ہیں جنہیں پیدا کرنے میں ان کا حصہ بہت کم تھا۔ نئی نسلوں کو ایسے رہائشی حالات ورثے میں مل رہے ہیں جن کے اخراجات وہ برداشت نہیں کر سکتیں۔ اداروں پر ان کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے اور ماحولیاتی بحران کے اثرات سے نمٹتے ہوئے ان کی زندگیاں گزریں گی۔
ایسے میں اگر وہ کسی عوامی جگہ پر جمع ہو کر کہتے ہیں کہ یہ نظام کام نہیں کر رہا، تو اداروں کا پہلا ردعمل ہر بار اس جگہ کو خالی کروانا نہیں ہو سکتا۔
یہ بہت خطرناک بات ہے کہ معاشرے نوعمروں کو آنسو گیس سے بھاگتے، بزرگوں کو گھروں سے محروم ہوتے، مظاہرین کو گھسیٹ کر پولیس گاڑیوں میں ڈالتے اور سڑکوں کو شہریوں اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کے درمیان میدان جنگ بنتے دیکھنے کے عادی ہو جائیں۔
اس لیے نہیں کہ ہر مظاہرہ کرنے والا درست ہوتا ہے۔
بلکہ اس لیے کہ خوف کے بغیر تبدیلی کا مطالبہ کر سکنا ان راستوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے معاشرے اپنی غلطیاں درست کرتے ہیں۔
شاید آج دنیا کو دیکھ کر دل اسی لیے اتنا بوجھل ہوتا ہے۔ انسانیت پہلے ہی ایسی بہت سی تکلیفوں کا سامنا کر رہی ہے جنہیں ہم روک نہیں سکتے۔
کم از کم وہ تکلیف پیدا کرنے سے تو ہمیں کہیں زیادہ محتاط رہنا چاہیے جس سے بچا جا سکتا ہے۔





