جنوبی ایشیا میں جنریشن زی کے ایک بڑے حصے کے لیے کافی وِد کرن اس عمر سے ہی بالی ووڈ کا حصہ تھا جب وہ اس میں ہونے والی بہت سی گفتگو کو سمجھنے کے قابل بھی نہیں تھے۔
یہ شو 2004 میں شروع ہوا، جس کا مطلب ہے کہ آج اپنی نوعمری اور بیس کی دہائی میں موجود ناظرین اس کے ساتھ ہی بڑے ہوئے۔ اس دوران مشہور شخصیات کے تعلقات بدلے، نئے اداکار ستارے بنے اور فیشن کے مختلف رجحانات آئے، لیکن کرن جوہر کا صوفہ وہ جگہ بنا رہا جہاں بالی ووڈ شخصیات فلموں، دوستیوں، تعلقات اور ایک دوسرے کے بارے میں بات کرتی رہیں۔
اب یہ مشترکہ سفر اختتام کے قریب ہے۔ کرن جوہر نے اعلان کیا ہے کہ کافی وِد کرن کا نواں سیزن اس کا آخری سیزن ہوگا، جس کے ساتھ شو کا 22 سالہ سفر ختم ہو جائے گا۔ آخری سیزن 14 اکتوبر سے جیو ہاٹ اسٹار پر نشر ہونے والا ہے۔
نوجوان ناظرین کے ساتھ پروگرام کے تعلق کی ایک وجہ اس کا فارمیٹ بھی تھا۔ کرن جوہر نے سلیبریٹی انٹرویوز کے ساتھ گیمز، ذاتی سوالات اور ریپڈ فائر راؤنڈ کو شامل کیا، جس سے ایسے لمحات سامنے آئے جن پر قسط ختم ہونے کے بعد بھی بات ہوتی رہی۔
یہ شو اس بات کا ریکارڈ بھی بن گیا کہ بالی ووڈ نے مختلف ادوار میں خود کو کس طرح پیش کیا۔ اداکار اپنے کیریئر کے مختلف مراحل میں بار بار شو میں واپس آتے رہے، جبکہ دوستیاں، تعلقات اور پیشہ ورانہ رقابتیں گفتگو کا مستقل حصہ بنیں۔
شو کے ساتھ کرن جوہر کا انداز بھی تبدیل ہوا۔ ابتدائی سیزنز میں سوٹس اور سادہ اسٹائلنگ سے شروع ہونے والا ان کا فیشن بعد میں ڈیزائنر جیکٹس، پرنٹس، اوور سائز ملبوسات اور نمایاں ایکسیسریز تک پہنچ گیا۔ وقت کے ساتھ مہمانوں نے بھی شو کو فیشن کے اظہار کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔
لیکن کافی وِد کرن ایک ایسی نسل کے ساتھ بھی بڑا ہوا جو وقت کے ساتھ اس فلم انڈسٹری پر زیادہ سوال اٹھانے لگی جس کا مواد وہ دیکھ رہی تھی۔
کنگنا رناوت کی جانب سے شو میں اقربا پروری کا معاملہ اٹھائے جانے کے بعد لفظ ’’نیپوٹزم‘‘ کرن جوہر اور پروگرام دونوں سے جڑ گیا۔ بالی ووڈ کے اندرونی حلقوں تک محدود رہنے والی گفتگو اب ایک ایسی بحث میں تبدیل ہونے لگی جس میں ناظرین بھی مراعات، مواقع تک رسائی اور فلم انڈسٹری میں تعلقات کے کردار پر سوال اٹھانے لگے۔
اسی دوران سوشل میڈیا نے بھی کرن جوہر کے صوفے پر بیٹھنے کے معنی بدل دیے۔
شو کے ابتدائی برسوں میں کسی مہمان کا ایک بیان انٹرٹینمنٹ کی سرخی بن سکتا تھا اور کچھ عرصے بعد پس منظر میں چلا جاتا تھا۔ بعد کے سیزنز تک پہنچتے پہنچتے یہی کلپس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے، میمز بننے اور برسوں بعد دوبارہ متعلقہ اداکاروں کے سامنے آنے لگے۔
اس تبدیلی نے گفتگو کے انداز کو بھی متاثر کیا۔
کرن جوہر ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ مہمان زیادہ محتاط ہو گئے تھے۔ بعض مہمان پہلے سے جاننا چاہتے تھے کہ ان سے کیا سوالات کیے جائیں گے، جبکہ کچھ اپنی گفتگو کے حصے حذف کرنے کی درخواست بھی کرتے تھے۔ بعد میں کرن جوہر نے آٹھویں سیزن کے ریپڈ فائر راؤنڈ میں مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگلے سیزن میں مختلف طریقہ اختیار کیا جائے گا۔
رنبیر کپور کا شو میں واپس نہ آنے کا فیصلہ بھی اسی مسئلے کی ایک مثال تھا۔ کرن جوہر کے مطابق اداکار کا خیال تھا کہ پروگرام میں کہی گئی باتوں کے نتائج انہیں طویل عرصے تک بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ رنبیر کپور بھی اس بارے میں بات کر چکے ہیں کہ شو میں کیے گئے تبصروں سے شروع ہونے والے تنازعات قسط ختم ہونے کے بعد بھی ان کا پیچھا کرتے رہتے ہیں۔
اس محتاط رویے نے کسی حد تک اس عنصر کو تبدیل کر دیا جس پر کافی وِد کرن کی بنیاد قائم تھی، یعنی مشہور شخصیات کا ایسی باتیں کہنا جو شاید وہ کسی روایتی تشہیری انٹرویو میں نہ کہیں۔
تاہم آخری سیزن میں شو کی تاریخ سے وابستہ کئی چہرے واپس آ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کرینہ کپور خان اور سیف علی خان نے ایک قسط کی ریکارڈنگ کی ہے، جو 16 سال بعد پروگرام میں ان کی پہلی مشترکہ پیشی ہوگی۔
ان کی واپسی اس پہلو کی بھی عکاسی کرتی ہے جس نے کافی وِد کرن کو بھارتی انٹرٹینمنٹ میں الگ مقام دیا۔ ناظرین نے ہر سیزن میں صرف مختلف مشہور شخصیات کو نہیں دیکھا بلکہ کئی اداکاروں کو دہائیوں کے دوران بار بار واپس آتے دیکھا، جب ان کے کیریئر اور ذاتی زندگیاں مختلف مراحل سے گزرتی رہیں۔
جنریشن زی کے لیے اس تاریخ کا بڑا حصہ اب مکمل اقساط کے بجائے مختصر کلپس میں موجود ہے۔ پرانے ریپڈ فائر جوابات، سلیبریٹی گفتگو، فیشن کے لمحات اور بحثیں آج بھی مختصر ویڈیوز اور میمز کی صورت میں گردش کرتی ہیں، جس سے موجودہ سوشل میڈیا دور سے کئی سال پہلے ریکارڈ کیے گئے مناظر کو بار بار نئی آڈیئنس ملتی ہے۔
کافی وِد کرن اب ایک ایسے میڈیا ماحول میں اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے جو اس کے آغاز کے وقت موجود ماحول سے مختلف ہے۔ یہ شو اس دور میں شروع ہوا تھا جب سلیبریٹی انٹرویوز پر ٹیلی ویژن کی گرفت تھی، اور اب اس دور میں ختم ہو رہا ہے جب کسی انٹرویو کے چند سیکنڈ بھی سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ سکتے ہیں۔
کرن جوہر کا صوفہ اپنے آخری سیزن کے قریب ضرور ہے، لیکن اس نسل کے لیے جو اسے دیکھتے، اس کے جملے دہراتے، اس پر تنقید کرتے اور اس کے لمحات کو میمز میں تبدیل کرتے ہوئے بڑی ہوئی، کافی وِد کرن پہلے ہی بالی ووڈ کی پاپ کلچر تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔





