میڈرڈ: اسپین میں مہنگی رہائش کے خلاف احتجاج ہفتے کے اختتام پر بھی جاری رہا۔ پارلیمان کی جانب سے کرایہ داروں کے تحفظ اور بڑھتے کرایوں سے نمٹنے کے لیے مجوزہ ہنگامی اقدامات مسترد کیے جانے سے مظاہرین کا غصہ مزید بڑھ گیا۔
حالیہ احتجاج کو ستاسی سالہ ماری کارمن اباسکال کی بے دخلی نے شدت دی۔ وہ میڈرڈ کے ایک گھر میں تقریباً ستر سال سے رہ رہی تھیں۔ ان کے مطابق، سرمایہ کاروں کی رقم سے جائیداد خریدنے والے ایک فنڈ نے گھر حاصل کرنے کے بعد کرایہ دو سو تیس فیصد بڑھا دیا، جس کی ادائیگی ان کے لیے ممکن نہیں تھی۔
بعد میں گھر واپس جانے کا معاہدہ ہونے کے باوجود ان کا معاملہ کرایہ داروں کو درپیش عدم تحفظ کی علامت بن گیا۔
بحران کی بنیادی وجوہ میں بڑھتے کرائے، ضرورت کے مقابلے میں کم مکانات اور سستی سرکاری رہائش کی کمی شامل ہیں۔ مظاہرین مالی منافع کے لیے جائیداد کی خریداری اور گھروں کو سیاحوں کے لیے مختصر مدت پر کرائے پر دینے کو بھی مسئلے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
وزیراعظم پیدرو سانچیز کی حکومت نے دو ہنگامی فرمان پیش کیے، جنہیں برقرار رکھنے کے لیے پارلیمان کی منظوری ضروری تھی۔ ان میں کمزور مالی حالات والے کرایہ داروں کی بے دخلی روکنے اور کرایہ داری کے ضابطوں میں تبدیلی کی تجاویز شامل تھیں۔
پاپولر پارٹی، ووکس اور کاتالونیا کی جماعت جنتس نے دو اکتوبر کو ان کی مخالفت کی۔ مخالف جماعتوں کا مؤقف تھا کہ سخت ضابطوں سے مالکان گھر کرائے پر دینا چھوڑ سکتے ہیں، جس سے قلت مزید بڑھے گی۔
ہفتے کو میڈرڈ کے احتجاج میں حکام کے مطابق ستر ہزار، جبکہ منتظمین کے مطابق پانچ لاکھ افراد شریک ہوئے۔ اتوار کو بلباؤ، مرسیا، سلامانکا، اوویئدو اور کوئنکا سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاج کی اطلاعات آئیں۔
بیشتر مظاہرے پُرامن رہے، تاہم ویلینسیا میں جھڑپوں کے دوران پولیس نے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔
کرایہ داروں کی یونین نے عام ہڑتال، یعنی مختلف شعبوں میں مشترکہ طور پر کام روکنے، کا مطالبہ کیا ہے۔ دستیاب اطلاعات میں اس کی ملک گیر تاریخ کی تصدیق نہیں ہوئی۔





