اسلام آباد: حکومت نے پیٹرول کی قیمت دو روپے دس پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تیس پیسے فی لیٹر بڑھا دی ہے۔ نئے نرخ ہفتے سے شروع ہونے والے تین دنوں کے لیے نافذ ہوں گے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق تین سے پانچ اکتوبر تک پیٹرول تین سو بانوے روپے چھہتر پیسے اور ڈیزل تین سو ننانوے روپے چونسٹھ پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ اس سے پہلے پیٹرول کی قیمت تین سو نوے روپے چھیاسٹھ پیسے اور ڈیزل کی تین سو ننانوے روپے چونتیس پیسے تھی۔
اس اضافے کے بعد بیس لیٹر پیٹرول خریدنے پر بیالیس روپے اور اتنا ہی ڈیزل خریدنے پر چھ روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔ پیٹرول پر ٹیکس اور ڈیوٹیاں ایک سو چودہ روپے جبکہ ڈیزل پر ایک سو روپے فی لیٹر برقرار ہیں۔
قیمتوں میں اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حکومت ایندھن کی کھپت کم کرنے اور مخصوص صارفین کو مدد دینے کے اقدامات کر رہی ہے۔ مارکیٹیں رات نو بجے بند کرنے کی پابند ہیں، جبکہ سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی مختص مقدار تین ماہ کے لیے نصف کردی گئی ہے۔
تیرہ ستمبر کو اعلان کردہ الگ ریلیف اسکیم موٹر سائیکلوں، رکشوں اور آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ہے۔ اسحاق ڈار کی زیر صدارت انتیس ستمبر کے جائزہ اجلاس میں تقریباً چھہتر لاکھ رجسٹریشن اور ستتر لاکھ دس ہزار ٹوکن استعمال ہونے کی اطلاع دی گئی۔ رجسٹریشن اور ٹوکن کے استعمال کے اعداد الگ ہیں، انہیں مستفید افراد کی ایک ہی تعداد نہیں سمجھا جاسکتا۔
دونوں ایندھن اب بھی تین اپریل کی بلند ترین قیمتوں سے کم ہیں، جب پیٹرول چار سو اٹھاون روپے اکتالیس پیسے اور ڈیزل پانچ سو بیس روپے پینتیس پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا۔
تاہم تازہ اضافہ گھریلو سفری اخراجات اور کاروباری لاگت بڑھاتا ہے۔ پیٹرول موٹر سائیکلوں، رکشوں اور نجی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ ڈیزل مال برداری، بھاری ٹرانسپورٹ اور جنریٹرز کا اہم ایندھن ہے۔
حکومت نے جولائی میں روزانہ قیمتوں کے جائزے کا نظام متعارف کرایا تھا، لیکن تازہ نوٹیفکیشن ان نرخوں کو واضح طور پر ہفتے سے پیر تک نافذ کرتا ہے۔





