ویب ڈیسک: چین نے امریکی سیکیورٹی ایجنسیوں اور محکمہ خزانہ کے حکام کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں امریکی آرٹیفیشل انٹیلی جنس نظاموں کا "جارحانہ، بدنیتی پر مبنی اور ہدف شدہ" ماڈل ڈسٹیلیشن کر رہی ہیں۔ ایف بی آئی، این ایس اے اور سی آئی ایس اے کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ ایڈوائزری میں ڈیپ سیک، علی بابا اور مون شاٹ اے آئی سمیت چھ چینی کمپنیوں پر کلاڈ، جی پی ٹی اور جیمینائی جیسے امریکی ماڈلز سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قابلیت نکالنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس کے جواب میں بدھ کے روز بیجنگ کی وزارتِ تجارت اور وزارتِ خارجہ نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔
چینی حکام نے ماڈل ڈسٹیلیشن کا دفاع کرتے ہوئے اسے دنیا بھر میں استعمال ہونے والا ایک عام اور غیر جانبدارانہ صنعتی طریقہ کار قرار دیا، اور خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے ان الزامات کو معاشی ناکہ بندی کا بہانہ بنایا تو جوابی کارروائی کی جائے گی۔ یہ سفارتی کشیدگی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی متوقع ملاقات سے ٹھیک پہلے سامنے آئی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت کے دوطرفہ حفاظتی فریم ورک پر بات چیت کی توقع ہے۔
یہ تنازع آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے انفراسٹرکچر اور تکنیکی بالادستی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی سائبر دفاعی ایجنسیوں کا الزام ہے کہ چینی کمپنیوں نے ہزاروں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے لاکھوں خودکار سوالات کر کے امریکی اے آئی ماڈلز کی ملکیتی صلاحیتیں حاصل کیں تاکہ کم لاگت میں اپنے سسٹمز کو تربیت دی جا سکے۔
جواب میں چین کی وزارتِ تجارت نے موقف اختیار کیا کہ امریکی الزامات کی کوئی حقائق پر مبنی یا قانونی حیثیت نہیں ہے اور ان کا بنیادی مقصد کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور ڈیٹا پر امریکی تسلط برقرار رکھنا ہے۔ اس لفظی جنگ کے دوران، چین کی اوپن ویٹ اے آئی کمپنی 'ڈیپ سیک' نے عالمی سطح پر صارفین کی بڑھتی ہوئی مانگ سے انفراسٹرکچر پر پڑنے والے دباؤ سے نمٹنے کے لیے 150 سے زائد سینئر بیک اینڈ انجینئرز کی "بے مثال" بھرتی مہم کا اعلان کیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ بے بنیاد الزام تراشی بند کرے اور متوقع سربراہی اجلاس سے قبل اے آئی گورننس کے معاملے پر حکومتی سطح پر تعمیری مذاکرات پر توجہ مرکوز کرے۔





