کٹھمنڈو: نیپال میں امدادی ٹیموں نے چین کی سرحد کے قریب موجود پن بجلی منصوبوں کی سرنگوں میں تلاش کا عمل تیز کر دیا ہے جہاں 121 لاپتا کارکنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ کارکن پن بجلی منصوبوں سے لاپتا ہونے والے تقریباً 900 افراد میں شامل ہیں۔ فوج کے مطابق ان میں سے کچھ افراد پاور پلانٹس کے دیگر حصوں میں کام کر رہے ہو سکتے ہیں، جبکہ کچھ وسیع زیر زمین سرنگوں میں پھنسے ہو سکتے ہیں۔
سب سے زیادہ توجہ راسووا ضلع کے چیلیمے پن بجلی منصوبے پر ہے۔ امدادی کارروائیوں میں شامل رکن پارلیمان شری رام نیوپانے کے مطابق وہاں لاپتا چھ افراد میں سے چار کے زندہ ہونے کا امکان ہے۔
امدادی ٹیموں نے چیلیمے میں کارروائی کے لیے خصوصی آلات اور طریقہ کار تیار کر لیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ سرنگوں میں ہوا کے خالی حصے، کمرے اور ایسی جگہیں موجود ہیں جہاں لوگ ملبے کے باوجود زندہ رہ سکتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں چار افراد کو زندہ بچائے جانے سے یہ امید مزید مضبوط ہوئی ہے۔
ہفتے کے روز امدادی کارکنوں نے ایک چینی شہری کو سرنگ سے زندہ نکالا۔ اس سے ایک روز پہلے دو پن بجلی کارکنوں کو دوسری سرنگ سے بچایا گیا تھا، جبکہ ہفتے کے روز ایک نیپالی خاتون کو اس کے ملبے تلے دبے گھر سے زندہ نکال لیا گیا۔
یہ تباہی 26 اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب گلیشیئر کا ایک حصہ ٹوٹنے کے بعد مٹی اور چٹانوں کا ایک بڑا ریلا نیپال اور چین کی سرحد کے قریب دریا میں جا گرا۔ اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے کئی قصبوں اور دیہات کو متاثر کیا اور سڑکیں اور شاہراہیں ملبے تلے دب گئیں۔
نیپال اور تبت میں کم از کم 1380 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 5500 سے زیادہ افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
نیپال نے عالمی برادری سے فوری امداد کی اپیل کی ہے، جس میں بڑی صلاحیت والے ڈرونز، بیلی پل، ڈی این اے ٹیسٹنگ کٹس اور سرنگوں میں ریسکیو کے لیے خصوصی سامان شامل ہے۔
ملک میں سوگ کے 13 ویں روز قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا۔ تاہم حکومت نے کوئی بڑی تقریب منعقد نہیں کی کیونکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
اس تباہی کے دوران زندہ بچنے کے دیگر واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ وزیر اعظم بالیندر شاہ کے مطابق نوواکوت جیل کے عملے نے سیلابی پانی پہنچنے سے پہلے 923 قیدیوں کو اونچی جگہ منتقل کر دیا تھا۔ مزید 50 قیدی جیل کی دیواریں اور دروازے توڑ کر فرار ہوئے لیکن بعد میں دوبارہ پکڑ لیے گئے۔
حالیہ ریسکیو کارروائیوں نے واضح کر دیا ہے کہ تلاش جاری رکھنا کیوں ضروری ہے۔ لاپتا افراد کے خاندانوں کے لیے ہر سرنگ، ہر عمارت اور ہر محفوظ جگہ اب بھی امید کی ایک ممکنہ وجہ ہے۔





