کٹھمنڈو: نیپال میں تقریباً دو ہفتے قبل نیپال چین سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب کے متاثرین کی یاد میں پیر کو قومی سوگ منایا گیا، جبکہ ریسکیو ٹیمیں قدرتی آفت کے بعد سے لاپتا افراد کی تلاش میں مسلسل مصروف ہیں۔
26 اگست کو گلیشیئر پھٹنے سے آنے والے اس سیلاب کے باعث کیچڑ، چٹانوں اور پانی کے بڑے ریلے نیپال اور تبت کی وادیوں میں بہہ نکلے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق کم از کم 1380 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 5500 سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
روایتی ہندو سوگ کے 13ویں اور آخری دن کے موقع پر نیپال میں قومی پرچم سرنگوں رہا۔ متاثرہ خاندانوں نے اپنے ان پیاروں کے لیے دعائیہ تقریبات اور علامتی آخری رسومات کا اہتمام بھی کیا جن کی لاشیں ابھی تک نہیں مل سکی ہیں۔
اس آفت کے نتیجے میں درجنوں غیر ملکی شہری بھی لاپتا ہیں۔ ان میں 36 آسٹریلوی شہری شامل ہیں جن میں سے اکثر ماؤنٹ کیلاش کی زیارت کے دوران نیپال تبت سرحد کے قریب سفر کر رہے تھے۔ پہلے لاپتا بتائے گئے 6 آسٹریلوی شہریوں کو محفوظ تلاش کر لیا گیا ہے، تاہم دیگر لاپتا افراد کے لواحقین معلومات کی تلاش میں مسلسل سرگرداں ہیں۔
آسٹریلوی حکام نے نیپال میں 15 رکنی ماہر انسدادِ آفت ٹیم بھیجی ہے، جس میں ڈرون آپریٹرز بھی شامل ہیں جو وسیع اور مشکل رسائی والے علاقوں میں تلاش کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آسٹریلین فیڈرل پولیس کے متاثرین کی شناخت کے 7 ماہرین بھی اس امدادی کارروائی میں مدد فراہم کریں گے۔ تاہم، متاثرہ خاندانوں کے لیے امید کی سب سے بڑی وجہ آفت کے کئی روز بعد زندہ ملنے والے افراد ہیں۔
ریسکیو اہلکاروں نے حال ہی میں ہائیڈرو پاور منصوبوں سے منسلک سرنگوں سے لوگوں کو زندہ نکالا ہے، جن میں ایک چینی شہری اور زیرِ زمین پھنسے دیگر کارکنان شامل ہیں۔ حالیہ کارروائیوں میں چار افراد کو بچایا گیا ہے، جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ کٹی ہوئی سرنگوں اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر سے مزید لوگ بھی زندہ مل سکتے ہیں۔
امدادی کارروائیاں تاحال انتہائی مشکل کا شکار ہیں۔ سڑکیں اور پل تباہ ہو چکے ہیں، وادیوں کے کئی حصے کیچڑ اور ملبے تلے دب چکے ہیں اور دور دراز علاقوں تک پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹر اور ڈرون ناگزیر ہو چکے ہیں۔
نیپال کے لیے سوگ کا یہ دن جاں بحق افراد کو یاد کرنے کا موقع ہے، لیکن خبر کے منتظر ہزاروں خاندانوں کے لیے تلاش کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا۔ جب تک ریسکیو اہلکار لوگوں کو زندہ نکال رہے ہیں، امیدیں قائم ہیں۔





