ریاض: سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے علاقائی سکیورٹی صورتحال اور مکہ دفاعی اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کے سعودی اور ترک ہم منصبوں نے شرکت کی، جہاں 7 اگست کو طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق تینوں ممالک نے اتحاد کے جنرل سیکریٹریٹ، کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام میں ہونے والی پیش رفت کے ساتھ ان کے کام کے آغاز کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا۔
وزرا نے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے لیے اقدامات پر غور کرنے کی غرض سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے فوجی سربراہان کے ہنگامی اجلاس کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ بات چیت سعودی سرزمین پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ہوئی۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جبکہ سعودی حکام کے مطابق چھ بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں روک لیا گیا۔
سعودی عرب نے مکہ، جدہ اور بحیرہ احمر پر واقع اہم تیل کی بندرگاہ ینبع سمیت مختلف علاقوں کے لیے ہنگامی انتباہ بھی جاری کیے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق تینوں ممالک نے مکہ اور دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ تینوں وزرائے خارجہ نے علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا اور دفاعی معاہدے کے تحت ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
بعد ازاں ترکیہ کی وزارت دفاع نے کہا کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بائراکتار اوغلو سہ فریقی فریم ورک کے تحت اپنے پاکستانی اور سعودی ہم منصبوں سے ملاقات کے لیے سعودی عرب جائیں گے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق تینوں ممالک نے علاقائی کشیدگی میں کمی کی کوششوں اور جاری بحران کے پُرامن حل کے لیے اپنی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔





