اسلام آباد: بھارت نے ایک بار پھر کھیلوں کو سیاست کی نظر کردیا۔ جب اس نے اتوار کے روز ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹورنامنٹ کی ٹرافی وصول کرنے سے دوبارہ انکار کر دیا، اس بار اس کی خواتین کی ٹیم نے اختتامی تقریب کو غیر یقینی اور تاخیر کا شکار بنا دیا۔
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹرافی کی تقریب بھارت کی جانب سے فائنل میں سری لنکا کو 72 رنز سے شکست دینے کے بعد نصف گھنٹے سے زیادہ تاخیر کا شکار ہوئی، ہندستان ٹائمز نے رپورٹ کیا۔
نقوی، جو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین اور ملک کے وزیر داخلہ بھی ہیں، اسٹیج پر کھڑے رہے جبکہ شائقین بھارت کے ٹرافی وصول کرنے کا انتظار کرتے رہے۔
تقریب “بھارتی ٹیم کے فاتحین کے تمغے یا ٹرافی وصول کیے بغیر” اختتام پذیر ہوئی۔ اسٹیڈیم سے براہ راست مناظر نے بھی اس کی تصدیق کی۔
تاہم، سری لنکا کی چماری اتھاپتھو نے نقوی سے رنرز اپ کا چیک وصول کیا، مذکورہ ادارے نے مزید بتایا۔
جب پوچھا گیا کہ آیا ان کی ٹیم کا ٹرافی وصول کرنے سے انکار “پہلے سے طے شدہ” تھا، ہیڈ کوچ امول مزومدار نے کہا کہ “یہ موقف بی سی سی آئی (بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا) نے اختیار کیا ہے، اور ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں”۔
جب پوچھا گیا کہ آیا ٹرافی کا انجام بھی گزشتہ سال کی مردوں کی ٹرافی جیسا ہوگا، مزومدار نے کہا، “ابھی تک کوئی خبر نہیں ہے۔ اس لیے میں اس کا جواب نہیں دے سکتا۔”
کھیلوں کی روح پر اس فیصلے کے اثرات سے متعلق سوال پر کوچ نے دہرایا کہ ٹیم بی سی سی آئی کے موقف کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے لیے ٹورنامنٹ “باضابطہ طور پر ختم” ہو چکا ہے۔
اتوار کے مناظر نے گزشتہ سال اکتوبر کے واقعات کو دہرایا، جب بھارت نے مردوں کے ایشیا کپ کے فائنل کی اختتامی تقریب میں ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا، کیونکہ مئی 2025 کے فوجی تنازع سے پیدا ہونے والی کشیدگی کرکٹ کے میدان تک پہنچ گئی تھی۔
بھارت کے ایسا کرنے سے انکار کے بعد ٹیموں کے درمیان روایتی مصافحہ بھی نہیں ہوا، جبکہ مقابلے میں ان کے گزشتہ دو ٹکراؤ کے باعث کشیدگی عروج پر تھی، جن میں سیاسی انداز اپنانے اور میدان میں جارحانہ رویے کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔
اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ٹرافی وصول کرنے سے انکار کرنے سے بھارت کی “سفارتی شکست اور فوجی شکست مٹ نہیں جائے گی”۔
چوہدری نے کہا کہ نئی دہلی نے “اپنی پوری قوم میں جنگی جنون بھر دیا ہے”۔ “ہماری کھیلوں کی ثقافت، جو امن اور محبت کی علامت تھی اور جس نے کئی جنگیں ختم کیں، ختم کر دی گئی ہے۔”
وزیر مملکت نے زور دے کر کہا کہ پاکستان نے کھیلوں کو “سیاسی رنگ” نہیں دیا اور نہ ہی اسے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا ہدف بنایا، اور وہ “ہر متنازع مسئلے” پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
اس سے قبل، شری چرانی کی شاندار چار وکٹوں کی کارکردگی نے بھارت کو سری لنکا کو 72 رنز سے شکست دے کر آٹھویں بار ایشیا کپ کا ٹائٹل جیتنے میں مدد دی۔ اسمرتی مندھانا اور شفالی ورما نے بالترتیب 59 اور 68 رنز بنا کر اننگز کو سنبھالا، جبکہ بھارتی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 185 رنز بنائے۔ چرانی نے تین وکٹیں لینے والی دیپتی شرما کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سری لنکا کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا، صرف اتھاپتھو، ویشمی گنارتنے، اور نیلکشی ڈی سلوا ہی ڈبل فگرز میں داخل ہو سکیں۔ سری لنکا کی پوری ٹیم 19.5 اوورز میں صرف 111 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی۔





