گنگ ٹوک: بھارت کی ریاست سکم کے ضلع گیال شنگ میں واقع رمبی گاؤں میں جمعرات کی رات شدید لینڈ سلائیڈنگ سے 30 سے زیادہ مکانات اور سرکاری رہائش گاہیں متاثر ہوئیں۔ مسلسل بارش کے باعث غیر مستحکم ہونے والی پہاڑی ڈھلوان سے مٹی، پتھر اور بھاری ملبہ آبادی کی جانب آ گیا۔
جمعہ تک کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ امدادی اور انتظامی ٹیموں نے گھروں، سڑکوں اور عوامی سہولتوں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ شروع کر دیا ہے۔ سکم کے وزیراعلیٰ پریم سنگھ تمانگ نے صورت حال کو سنگین قرار دیتے ہوئے حکام کو چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ علاقے میں مزید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بعض مکانات مکمل طور پر گر گئے جبکہ کئی عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا یا زمین کی حرکت کے باعث وہ ایک جانب جھک گئی ہیں۔ ڈھلوان بدستور غیر مستحکم ہونے کی وجہ سے قریبی گھروں اور املاک کو خطرہ لاحق ہے۔
یہ واقعہ اچانک شروع ہونے والا الگ حادثہ نہیں بلکہ رمبی اور قریبی سنگلیتم میں جاری زمینی حرکت کا تازہ مرحلہ ہے۔ علاقے میں 12 ستمبر سے لینڈ سلائیڈنگ کی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے قبل 28 گھروں میں رہنے والے 128 افراد کو احتیاطاً محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔
سکم کی قدرتی آفات سے نمٹنے والی اتھارٹی کے مطابق ملبہ نِک کھولسا ندی میں جمع ہو کر پانی کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کر رہا ہے۔ شدید بارش کی صورت میں پانی، مٹی اور پتھروں کا یہ مجموعہ تیزی سے گاؤں کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ جمع شدہ پانی اچانک خارج ہونے سے ایک اور تباہ کن ریلہ آنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
اسی علاقے میں پہلے ایک پختہ پل بہہ چکا ہے جبکہ رمبی دریا نے بھی اپنا راستہ تبدیل کیا ہے۔ حکام عارضی گزرگاہیں قائم کرنے، بند سڑکیں کھولنے اور متاثرہ ڈھلوان میں نئی دراڑوں اور حرکت کی نگرانی کر رہے ہیں۔
سکم مشرقی ہمالیہ میں واقع ہے جہاں کھڑی ڈھلوانیں، کمزور چٹانی ساخت اور شدید بارش آبادیوں اور پہاڑی سڑکوں کو لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے دوچار کرتی ہیں۔ زمین میں زیادہ پانی جذب ہونے سے ڈھلوان کا وزن بڑھتا ہے اور مٹی اپنی جگہ برقرار رکھنے کی صلاحیت کھو سکتی ہے۔
مقامی لوگوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، ندی نالوں اور فعال لینڈ سلائیڈنگ والے مقامات سے دور رہنے اور نئی دراڑ، غیر معمولی آواز یا پانی کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔





