الجزائر: جنگلات میں جان بوجھ کر آگ لگانے کی روک تھام کے لیے الجزائر کی حکومت نے سخت تعزیری اقدامات اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ افریقی ملک کے مختلف علاقوں میں جنگلات میں لگنے والی آگ کے سلسلے کے بعد کیا گیا ہے۔
الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون نے جان بوجھ کر جنگلات میں آگ لگانے کے جرم میں سزا پانے والے افراد کو سزائے موت دینے کی اجازت سے متعلق قانون سازی کا مسودہ تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
صدر عبدالمجید تبون نے جنگلات میں لگنے والی آگ کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے حکمت عملی پر غور کرنے کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران اس قانون سازی سے متعلق ہدایات جاری کیں۔
واضح رہے کہ اگست کے اواخر سے شمالی الجزائر میں جنگلات کی آگ نے رہائشی علاقوں، اہم شاہراہوں اور زرعی اراضی کو تیزی سے پھیلنے والے شعلوں کی زد میں لا دیا ہے۔
اب تک ان آتشزدگی کے واقعات میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ بجایہ، جیجل اور تی زی اوزو کے علاقوں میں اہم قومی شاہراہوں کو ہنگامی طور پر بند کرنا پڑا ہے۔
مزید برآں، حالیہ آتشزدگی ملک بھر میں موسمِ گرما کے دوران لگنے والی مسلسل آگ کے واقعات کے بعد سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق صرف جولائی میں ملک بھر میں تقریباً 2,000 آتشزدگی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ شمال مشرقی صوبے عنابہ میں جولائی کے آخر میں لگنے والی آگ کے باعث 100 سے زائد افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے اور تقریباً 150 مکانات کو نقصان پہنچا۔
موجودہ آتشزدگی نے ایک بار پھر رہائشی علاقوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے پھیلنے والے شعلوں کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ شمالی الجزائر میں موسمِ گرما کے دوران جنگلات میں آگ لگنا معمول ہے، جبکہ خشک سالی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور شدید گرمی کے ادوار نے آگ کے مزید سنگین حالات پیدا کیے ہیں۔
تاہم، الجزائر کی صورتحال 2026 میں دنیا کے مختلف براعظموں کو متاثر کرنے والے وسیع تر جنگلاتی آگ کے موسم کا بھی حصہ ہے۔ یکم اگست تک دنیا بھر میں 11 کروڑ 23 لاکھ ہیکٹر رقبہ جل چکا تھا۔ یہ اعداد و شمار گلوبل وائلڈ فائر انفارمیشن سسٹم کے ڈیٹا پر مبنی ہیں، جسے ’آور ورلڈ اِن ڈیٹا‘ نے مرتب کیا ہے۔
مجموعی طور پر جلنے والے رقبے میں افریقہ کا حصہ 55.1 فیصد رہا۔ جمہوری جمہوریہ کانگو میں سب سے زیادہ، 1 کروڑ 36 لاکھ ہیکٹر رقبہ متاثر ہوا، اس کے بعد آسٹریلیا میں 1 کروڑ 18 لاکھ ہیکٹر اور انگولا میں 75 لاکھ ہیکٹر رقبہ جلنے کی اطلاع ہے۔
تاہم، ان اعداد و شمار میں زرعی مقاصد اور منصوبہ بندی کے تحت لگائی جانے والی آگ بھی شامل ہے، اس لیے یہ اعداد و شمار بے قابو جنگلاتی آگ سے متاثرہ حقیقی رقبے کی براہِ راست عکاسی نہیں کرتے۔





