اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت سے متعلق تنازع اب فوجی بیانات سے نکل کر سوشل میڈیا پر پہنچ گیا ہے، جہاں پاکستانی صارفین مزاحیہ انداز میں کہہ رہے ہیں کہ بالی ووڈ کو اپنی اگلی پاکستان مخالف فلم کے لیے نیا مواد مل گیا ہے۔
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کے روز سابق ایس ایس جی کمانڈو حوالدار (ر) محمد آصف کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں ایک جنگجو کی ہلاکت کی رپورٹنگ کے دوران آصف کی شناخت کا غلط استعمال کیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، بھارت نے آپریشن میں ہلاک شخص کی شناخت "آصف فوجی" کے نام سے کی تھی۔
پریس کانفرنس کے دوران آصف نے بتایا کہ اپنی ہلاکت کی خبریں گردش کرنے کے بعد انہیں فون کالز موصول ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ ان کی یہ آمد جلد ہی پاکستانی سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئی، جہاں صارفین نے 'دھرندھر' فلم کے تیسرے حصے، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور حتیٰ کہ "جنت سے کی جانے والی پریس کانفرنس" جیسے مزاحیہ تبصرے اور میمز شیئر کیے۔
یہ طنز و مزاح ان پاکستانی ناظرین کی اس بڑھتی ہوئی برہمگی کا بھی عکاس ہے جو بھارتی فلموں میں پاکستان کو مسلسل دہشت گردی، جاسوسی یا عسکری خطرے کے طور پر پیش کیے جانے پر نالاں ہیں۔
اکشے کمار اور سدھارتھ ملہوترا جیسے اداکاروں کی فلموں میں پاک ہند کشیدگی، انٹیلی جنس آپریشنز اور دہشت گردی کو بار بار موضوع بنایا گیا ہے۔ اس نوعیت کی فلموں کی تجارتی کامیابی نے قومی سلامتی اور پاکستان سے جڑے بیانیے کو بالی ووڈ کا مستقل حصہ بنا رکھا ہے۔
عسکری واقعات اور سینما کا یہ گہرا تعلق مئی 2025 میں بھارت کے 'آپریشن سندور' کے بعد ایک بار پھر واضح طور پر سامنے آیا، جب بھارتی پروڈیوسرز نے اس عسکری تصادم کے فوراً بعد اس سے جڑے فلمی ٹائٹلز رجسٹر کروانے کی دوڑ شروع کر دی۔ 2026 تک، 'انڈین موشن پکچر پروڈیوسرز ایسوسی ایشن' کے پاس آپریشن سندور سے منسلک 150 سے زائد درخواستیں منظوری کی منتظر تھیں۔
یہ رجحان اب اسٹریمنگ پلیٹ فارمز تک بھی پھیل چکا ہے۔ نیٹ فلکس نے 2026 میں 1999 کی کارگل جنگ میں بھارتی فضائیہ کے کردار پر مبنی سیریز 'آپریشن سفید ساگر' ریلیز کی، جس کے ذریعے پاک ہند عسکری کہانی کو بین الاقوامی سطح پر پیش کیا گیا۔
تاہم، سوشل میڈیا کے دور نے سرحد پار اس بیانیے کو قبول کرنے کے انداز کو بدل دیا ہے۔ جنریشن زی (Gen Z) سمیت پاکستانی صارفین اب کسی سرکاری ردِعمل، فلم یا ٹی وی ڈرامے کا انتظار کیے بغیر سیکنڈوں میں میمز، ویڈیو کلپس اور کاؤنٹر نیریٹو (جوابی بیانیے) کے ذریعے فوری ردِعمل دیتے ہیں۔
حوالدار آصف کے معاملے میں بھی یہی منظرنامہ دیکھنے میں آیا۔ محض عسکری بیانات تک محدود رہنے کے بجائے، اس واقعے کو ایک سماجی تبصرے میں بدل دیا گیا کہ کس طرح پاکستان سے جڑے واقعات کو فوراً بھارتی تفریح اور سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے۔
یہ تازہ ترین واقعہ اب ایک ایسا سوال کھڑا کرتا ہے جو محض ایک غلط شناخت سے کہیں آگے کا ہے: پاکستان آخر کب تک بالی ووڈ کے لیے ایک سیکیورٹی دُشمن کا کردار ادا کرتا رہے گا، قبل اس کے کہ خود ناظرین ایک مختلف اور حقیقت پسندانہ اسکرپٹ کا مطالبہ کرنا شروع کر دیں؟





