پرنسٹن: ایک بڑی تحقیق میں آٹزم کے چار الگ نمونوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ مختلف افراد میں یہ کیفیت مختلف انداز میں کیوں ظاہر ہوتی ہے۔
پرنسٹن یونیورسٹی فلیٹ آئرن انسٹی ٹیوٹ اور سائمنز فاؤنڈیشن کے محققین نے اسپارک تحقیقی پروگرام میں شامل چار سے 18 سال عمر کے 5392 آٹسٹک بچوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔
محققین نے کسی ایک علامت کو الگ دیکھنے کے بجائے کمپیوٹر ماڈل کی مدد سے ہر بچے کی 239 خصوصیات کا مجموعی تجزیہ کیا۔ ان میں سماجی رابطہ گفتگو بار بار دہرائے جانے والے رویے ذہنی صحت کی کیفیات اور نشوونما کے مختلف مراحل تک پہنچنے کی عمر شامل تھی۔
ماڈل نے چار بڑے گروہوں کی نشاندہی کی۔
سماجی اور رویوں سے متعلق مشکلات والے گروہ میں تقریباً 37 فی صد بچے شامل تھے۔ یہ بچے عموماً نشوونما کے مراحل وقت پر مکمل کرتے تھے لیکن انہیں گفتگو سماجی رابطے بار بار دہرائے جانے والے رویوں بے چینی افسردگی یا توجہ کی کمی جیسی مشکلات کا سامنا ہو سکتا تھا۔
نشوونما میں تاخیر کے ساتھ مخلوط آٹزم والے گروہ میں تقریباً 19 فی صد بچے شامل تھے۔ ان بچوں نے چلنے اور بولنے جیسے مراحل نسبتاً دیر سے مکمل کیے لیکن ان میں بے چینی مزاج یا خلل ڈالنے والے رویوں کی شرح کم تھی۔
درمیانی نوعیت کی مشکلات والے گروہ میں تقریباً 34 فی صد بچے شامل تھے۔ ان میں آٹزم کی بنیادی خصوصیات موجود تھیں لیکن ان کی شدت نسبتاً کم تھی۔ ان کی نشوونما عموماً وقت پر ہوئی اور ساتھ موجود نفسیاتی کیفیات بھی کم دیکھی گئیں۔
وسیع طور پر متاثرہ گروہ سب سے چھوٹا تھا اور اس میں تقریباً 10 فی صد بچے شامل تھے۔ ان بچوں کو نشوونما گفتگو سماجی رابطے رویوں اور ذہنی صحت کے حوالے سے زیادہ وسیع مشکلات درپیش تھیں۔
جینیاتی تجزیے سے بھی گروہوں کے درمیان فرق سامنے آیا۔ وسیع طور پر متاثرہ بچوں میں ایسی نقصان دہ جینیاتی تبدیلیاں زیادہ تھیں جو والدین سے وراثت میں نہیں ملی تھیں۔ نشوونما میں تاخیر والے گروہ میں نایاب موروثی جینیاتی تبدیلیوں کا امکان زیادہ دیکھا گیا۔
جولائی 2025 میں نیچر جینیٹکس میں شائع ہونے والی یہ تحقیق موجودہ تشخیص کو تبدیل نہیں کرتی اور نہ ہی یہ ثابت کرتی ہے کہ ہر آٹسٹک فرد لازماً انہی چار خانوں میں شامل ہوگا۔ ان نتائج کی تصدیق کے لیے مختلف آبادیوں پر مزید تحقیق ضروری ہے۔
اگر یہ نتائج مزید مطالعات میں برقرار رہے تو مستقبل میں معالجین کو ہر فرد کی ضروریات کے مطابق نگرانی معاونت اور نگہداشت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔





