اسلام آباد: صدر آصف زرداری نے اسلام آباد میں سیف سٹی کیمروں اور نگرانی کے نظام کو نقصان سے بچانے اور ہرجانے کی ادائیگی یقینی بنانے کے لیے ایک آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔
ایوانِ صدر کے مطابق ’اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری سیف سٹی کیمرہ اینڈ سرویلنس انفراسٹرکچر پروٹیکشن اینڈ ڈیمیج کمپنسیشن آرڈیننس‘ کی منظوری جمعے کے روز وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر دی گئی ہے۔
آرڈیننس کے تحت سیف سٹی کیمرے یا دیگر نگرانی کے نظام کو نقصان پہنچانے پر 20 لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ ایسے نقصان پر اکسانے یا ترغیب دینے والوں پر بھی مالی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ایوانِ صدر کا کہنا ہے کہ اگر کسی جلسے، جلوس، دھرنے، احتجاج، ہڑتال یا دیگر اجتماع کے دوران نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری منتظمین پر بھی عائد کی جا سکے گی۔
جرمانے کی رقم اور متاثرہ ڈھانچے کی مرمت یا تبدیلی کے اخراجات کا تعین ایک مجاز افسر کرے گا۔ تاہم فیصلہ کرنے سے قبل متعلقہ شخص کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
آرڈیننس میں مجاز افسر کی جانب سے مقرر کردہ جرمانے یا ہرجانے کے خلاف اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔ اپیل 30 دن کے اندر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد کی عدالت میں دائر کی جا سکے گی۔
ایوانِ صدر کے مطابق مقررہ جرمانہ یا ہرجانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں یہ رقم بقایا جاتِ مالیاتِ ارضی (لینڈ ریونیو) کے طور پر وصول کی جا سکے گی۔
جرمانے اور ہرجانے سے حاصل ہونے والی رقم سیف سٹی کیمروں اور نگرانی کے نظام کی مرمت اور تبدیلی کے لیے استعمال کی جائے گی۔
یہ آرڈیننس ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد میں مجوزہ احتجاج 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا ہے۔





