عدن: سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے اتوار کو حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقے واپس لینے کے لیے بڑی فوجی کارروائی کا اعلان کردیا۔ یہ پیش رفت بحیرۂ احمر کے ساحل اور تعز کے اطراف حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کے بعد سامنے آئی ہے۔
عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت چلانے والی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا کہ حکومتی کنٹرول بحال ہونے تک کارروائی جاری رہے گی۔ ان کے مطابق کشیدگی کم کرنے کے مواقع ختم ہوچکے تھے۔
ایک فوجی ترجمان نے بعد میں حوثی جنگجوؤں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔
ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک، جس کا باضابطہ نام انصار اللہ ہے، دو ہزار چودہ سے دارالحکومت صنعا اور شمال مغربی یمن کے بڑے حصے پر قابض ہے۔ گزشتہ ماہ اس نے باب المندب اور تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر ساحلی پٹی پر کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔
باب المندب وہ تنگ سمندری گزرگاہ ہے جو بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے۔ یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں اس کی اہمیت بنیادی ہے۔
کارروائی کے اعلان کے ساتھ حوثیوں نے سعودی عرب کے ریاض اور خریص میں آرامکو کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق یہ گزشتہ بارہ گھنٹوں میں یمن پر پچاس سعودی قیادت والے حملوں کا جواب تھا۔ سعودی حکام نے فوری طور پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
علاقائی اور مغربی حکام کے مطابق منصوبے میں یمنی زمینی فورسز کو سعودی فضائی کارروائیوں کی مدد حاصل ہونا شامل تھا۔ تیاریوں سے واقف ذرائع نے امریکی انٹیلی جنس معاونت کی بھی اطلاع دی۔
فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں تعز کے قریب مزید پیش قدمی کی۔ تعز کو عدن سے ملانے والی باقی سڑک پر قبضہ شہر کا عملی محاصرہ کرسکتا ہے، جس سے لاکھوں شہریوں کی نقل و حرکت اور ضروری سامان کی ترسیل متاثر ہوگی۔
دو ہزار بائیس کی جنگ بندی سے لڑائی بڑی حد تک کم ہوئی تھی، تاہم رواں سال کشیدگی دوبارہ بڑھی ہے۔
عالمی ادارۂ خوراک کے مطابق یمن کے بعض علاقوں میں ہر چار میں سے تین خاندان بھوک کا سامنا کررہے ہیں۔ نئی لڑائی نے دسیوں ہزار افراد کو بے گھر اور لاکھوں تک رسد کو متاثر کیا ہے۔





