راولپنڈی: بھارتی حکام اور میڈیا کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک شخص کو کارروائی کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا، جس کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے کی گئی۔ بھارتی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ہلاک ہونے والا شخص سابق پاکستانی فوجی اور اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کا کمانڈو تھا۔
تاہم بھارتی دعوے کے برعکس محمد آصف خود راولپنڈی میں میڈیا کے سامنے پیش ہوگئے اور بتایا کہ وہ زندہ ہیں اور اپنے گھر میں موجود تھے۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس کے دوران محمد آصف نے بھارتی میڈیا میں اپنی ہلاکت کی خبریں سامنے آنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں تفصیلات بیان کیں۔
محمد آصف کو اپنی ہلاکت کی خبر کیسے ملی؟
محمد آصف کے مطابق وہ اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب میں اپنے گھر پر موجود تھے جب دوستوں نے انہیں فون کرکے بتایا کہ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ان کی ہلاکت کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صورتحال اس وقت مزید حیران کن ہوگئی جب انہیں بھارتی نمبروں سے فون کالز موصول ہونا شروع ہوئیں۔ کال کرنے والے افراد ان سے ذاتی معلومات کے بارے میں سوالات کر رہے تھے اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ آیا وہ وہی شخص ہیں جسے بھارتی میڈیا نے ہلاک قرار دیا ہے۔
آصف کے مطابق انہوں نے مشکوک نمبروں کو بلاک کردیا۔ بعد ازاں جب انہوں نے بھارتی ٹی وی رپورٹس دیکھیں تو ان میں ان کی تصویر، فوجی سروس سے متعلق معلومات اور یہ دعویٰ موجود تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ایک کارروائی کے دوران مارے گئے ہیں۔
محمد آصف نے بتایا کہ انہوں نے اپنی سابق یونٹ کے سینئر افسران سے بھی رابطہ کیا اور انہیں اپنی خیریت سے آگاہ کیا۔ بعد ازاں آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی ان سے رابطہ کیا گیا۔
فوجی سروس اور ایس ایس جی سے تعلق
محمد آصف نے بتایا کہ انہوں نے سال 2000 میں پاکستان آرمی کی آرٹلری کور میں شمولیت اختیار کی۔
2005 میں وہ اسپیشل سروسز گروپ یعنی ایس ایس جی کا حصہ بنے، جہاں انہوں نے خصوصی تربیت حاصل کی اور فوج میں اپنی خدمات جاری رکھیں۔
آصف کے مطابق انہوں نے مجموعی طور پر 18 سال تک پاک فوج میں خدمات انجام دیں اور 2023 میں ریٹائر ہوئے۔
فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے تقریباً تین سال ایک نجی سیکیورٹی کمپنی کے ساتھ کام کیا۔ ان کے مطابق بعد میں انہوں نے یہ کام بھی چھوڑ دیا اور اپنے گھر سے کاروبار کرنے لگے۔
بھارتی میڈیا نے کیا دعویٰ کیا تھا؟
بھارتی میڈیا رپورٹس میں مقبوضہ کشمیر میں ہلاک کیے جانے والے شخص کو محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ قرار دیا گیا۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ شخص ماضی میں پاکستان آرمی میں خدمات انجام دے چکا تھا اور بعد میں مبینہ طور پر لشکرِ طیبہ سے وابستہ ہوگیا تھا۔
بھارتی رپورٹس میں اس شخص کے فوجی پس منظر، ایس ایس جی سے مبینہ تعلق اور عسکری سرگرمیوں سے متعلق مختلف دعوے بھی کیے گئے۔
تاہم راولپنڈی میں محمد آصف کی میڈیا کے سامنے موجودگی نے ان دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے، کیونکہ انہوں نے واضح طور پر بتایا کہ وہ زندہ ہیں اور ان کا کسی عسکری تنظیم یا سرحد پار دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔
محمد آصف نے الزامات مسترد کردیے
میڈیا سے گفتگو میں محمد آصف نے بھارتی رپورٹس میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بارے میں غلط معلومات پھیلائی گئیں۔
انہوں نے اپنی شناخت اور سابق فوجی سروس سے متعلق دستاویزات بھی پیش کیں۔
آصف نے بتایا کہ فوج میں ان کی تربیت اور خدمات پاکستان کے دفاع سے متعلق تھیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہ معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اگر ملک کو ان کی ضرورت پڑی تو وہ پاکستان کے دفاع کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اصل معاملہ کیا ہے؟
یہ واقعہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا ہے کہ بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہلاک کیے جانے والے ایک شخص کو محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ قرار دیا گیا، جبکہ پاکستان میں اسی نام اور فوجی پس منظر رکھنے والا شخص خود میڈیا کے سامنے آکر اپنی موجودگی ثابت کر رہا ہے۔
بھارتی حکام اور میڈیا کی جانب سے ہلاک کیے گئے شخص کی شناخت سے متعلق مؤقف اور پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے محمد آصف کے بیان میں واضح تضاد موجود ہے۔
آئی ایس پی آر نے اس معاملے کو بھارتی بیانیے اور مبینہ غلط معلومات کے تناظر میں پیش کیا ہے، جبکہ واقعے میں ہلاک ہونے والے شخص کی اصل شناخت سے متعلق دونوں جانب سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔
محمد آصف کے منظرِ عام پر آنے کے بعد اس معاملے نے سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے اور بھارتی میڈیا میں ان کی شناخت اور ہلاکت سے متعلق رپورٹس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔





