لندن: وینزویلا کی عبوری حکومت اور حزب اختلاف کا ایک دھڑا بینک آف انگلینڈ میں موجود تقریباً 4 ارب USD مالیت کے سونے سے متعلق معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
رائٹرز اور فنانشل ٹائمز کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت تقریباً 31 میٹرک ٹن سونا لندن سے فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک منتقل کیا جا سکتا ہے یا اسے امریکی محکمہ خزانہ کی نگرانی میں رکھا جا سکتا ہے۔
تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ سونا برطانیہ سے روانہ ہو چکا ہے۔ معاہدہ ابھی مذاکرات کے مرحلے میں ہے اور کسی بھی منتقلی سے پہلے ذخائر کی ملکیت سے متعلق قانونی اور سیاسی معاملات حل کرنا ضروری ہوگا۔
مجوزہ انتظام کے تحت ڈیلسی روڈریگز کی قیادت میں عبوری حکومت کو سونے پر قانونی اختیار مل سکتا ہے لیکن اسے یہ ذخائر آزادانہ طور پر فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے سونا امریکی نگرانی میں قرض حاصل کرنے کے لیے ضمانت کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔
اس قرض سے حاصل ہونے والی رقم کا کچھ حصہ جون میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد تعمیر نو پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ رقم ابھی جاری نہیں ہوئی اور نہ ہی اسے مکمل طور پر تعمیر نو کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
بینک آف انگلینڈ نے کئی برس سے اس سونے تک رسائی روک رکھی ہے کیونکہ یہ تنازع موجود ہے کہ وینزویلا کی کس سیاسی اتھارٹی کو قانونی طور پر تسلیم کیا جائے۔ یہ قانونی تنازع 2019 میں اس وقت شدت اختیار کر گیا جب برطانیہ اور بعض دیگر ممالک نے نکولس مادورو کے بجائے حزب اختلاف کے رہنما خوان گوائیڈو کو عبوری صدر تسلیم کیا۔
مجوزہ معاہدے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے کسی ایک سیاسی فریق کو مکمل اختیار دیے بغیر قومی اثاثوں کو بحالی کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ حزب اختلاف کے نمائندے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت نگرانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بینک آف انگلینڈ کو سونا جاری کرنے سے پہلے واضح قانونی بنیاد درکار ہوگی۔ حتمی معاہدے اور ضروری عدالتی فیصلوں تک یہ ذخائر لندن میں ہی رہیں گے۔





