نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا عمومی مباحثہ منگل کو شروع ہو رہا ہے جس میں عالمی رہنما بڑھتے ہوئے بین الاقوامی مسائل پر اظہار خیال کریں گے۔
اس سال مباحثے کا موضوع ہے “اعتماد کی بحالی تبدیلی کا انتظام اور سب کے لیے مؤثر اقوام متحدہ۔” یہ موضوع جنگوں انسانی بحرانوں موسمیاتی تبدیلی معاشی عدم استحکام اور بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم سے نمٹنے میں عالمی اداروں کی صلاحیت پر پائی جانے والی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان افتتاحی اجلاس سے خطاب کرنے والے نمایاں رہنماؤں میں شامل ہیں۔
عمومی مباحثہ سربراہان مملکت اور حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات بیان کرنے اور اہم عالمی معاملات پر قومی مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس اجلاس میں کی جانے والی تقاریر قانونی طور پر پابند فیصلے نہیں بناتیں لیکن سفارتی ایجنڈے پر اثر ڈال سکتی ہیں اور اجلاس کے موقع پر ہونے والے مذاکرات کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
یہ اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب مسلح تنازعات توانائی کی رسد میں رکاوٹوں تجارتی راستوں پر دباؤ اور اقوام متحدہ میں اصلاحات کے مطالبات نے عالمی نظام کو مشکل صورت حال سے دوچار کر رکھا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی جانب سے قرضوں موسمیاتی مالی معاونت غذائی تحفظ اور ٹیکنالوجی تک غیر مساوی رسائی کے مسائل اٹھائے جانے کی بھی توقع ہے۔
اجلاس میں بنیادی سوال یہ ہوگا کہ کیا رکن ممالک اپنے اختلافات سے آگے بڑھ کر عملی تعاون کے شعبے تلاش کر سکتے ہیں۔ بڑی طاقتوں کے درمیان سلامتی معاشی پالیسی اور بین الاقوامی قانون کے اطلاق پر اختلافات کے باعث اعتماد کی بحالی آسان نہیں ہوگی۔
چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے جنرل اسمبلی اہم ہے کیونکہ یہاں ہر رکن ملک کو اس کی عسکری یا معاشی طاقت سے قطع نظر ایک ووٹ حاصل ہے۔
اس اجلاس کی اصل کامیابی کا تعین تقاریر سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ حکومتیں اپنے وعدوں کو سفارت کاری مالی وسائل اور مشترکہ اقدامات میں کس حد تک تبدیل کرتی ہیں۔





