بوٹیمبو: کانگو کے حکام نے رواں ہفتے شمالی کیوو کے شہر بوٹیمبو میں ایبولا کے دو مزید علاج مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے بعد کیٹاتمبا مرکز کے تمام 29 بستر بھر چکے ہیں اور بعض متاثرہ افراد کو فوری طبی سہولت نہیں مل پا رہی۔
منگل تک سرکاری اعداد و شمار میں 7820 مریضوں اور 3779 اموات کی تصدیق کی گئی تھی۔ ایتوری اب بھی سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے، تاہم نئے مریضوں اور اموات میں شمالی کیوو کا حصہ تقریباً ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے۔
شمالی کیوو میں تشخیص شدہ مریضوں کی شرح اموات 60 فیصد سے زیادہ ہے، یعنی ہر دس میں سے چھ سے زیادہ مریض جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ قومی سطح پر یہ شرح 48 فیصد ہے۔ طبی کارکنوں کے مطابق بہت سے مریض علاج مراکز کے خوف، تشخیص پر شکوک یا طبی ٹیموں پر عدم اعتماد کی وجہ سے بیماری کی آخری حالت میں اسپتال پہنچتے ہیں۔
موجودہ وبا ایبولا وائرس کی بنڈی بگیو قسم سے پھیلی ہے۔ یہ زائر قسم کے مقابلے میں کم معروف ہے، جس نے 2018 سے 2020 کے دوران کانگو میں شدید وبا پیدا کی تھی۔ بنڈی بگیو کی ابتدائی علامات نسبتاً ہلکی ہو سکتی ہیں اور انہیں ملیریا یا ٹائیفائڈ سمجھا جا سکتا ہے، جس سے بروقت تشخیص مشکل ہو جاتی ہے۔ اس قسم کے لیے ابھی کوئی مخصوص منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں، تاہم ویکسین کے تجربات جاری ہیں۔
ایبولا متاثرہ شخص کے خون، جسمانی رطوبتوں، آلودہ اشیا یا بیماری سے ہلاک ہونے والے فرد کے جسم سے براہ راست رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے۔ مریضوں کی فوری شناخت، ان سے رابطے میں آنے والے افراد کی نگرانی اور محفوظ تدفین وائرس کی منتقلی روکنے کے بنیادی اقدامات ہیں۔
عوامی عدم اعتماد نے ان تمام اقدامات کو متاثر کیا ہے۔ بعض مقامات پر تدفین اور جراثیم سے پاک کرنے والی ٹیموں پر حملے ہوئے، جبکہ رواں ماہ بوٹیمبو میں ایک طبی مرکز کو آگ لگا دی گئی۔ عملے کی کمی کے باعث شہر کی نو میں سے صرف دو طبی چوکیاں فعال ہیں۔
عدم اعتماد کی ایک وجہ 2018 سے 2020 کی وبا کے دوران امدادی عملے سے منسلک جنسی استحصال کے واقعات بھی ہیں۔ سابقہ وبا میں استعمال ہونے والی ویکسین اور ادویات کا موجودہ قسم کے خلاف منظور نہ ہونا بھی مقامی لوگوں میں شکوک پیدا کر رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ بحران کے بعد بدسلوکی روکنے کے حفاظتی انتظامات مضبوط کیے گئے ہیں۔
حکام اب گھر گھر آگاہی، نئے علاج مراکز اور مذہبی، روایتی اور مقامی رہنماؤں کی مدد سے اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود مسلح تنازع، مالی وسائل کی کمی اور طبی عملے کی قلت وبا کے خلاف کارروائی میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق وائرس کا پھیلاؤ ختم ہونے کے بجائے جغرافیائی طور پر منتقل ہو رہا ہے۔ بعض پرانے مراکز میں مریضوں کی تعداد کم ہوئی ہے، لیکن شمالی کیوو اور جنوبی اوبانگی میں بڑھتے ہوئے کیس ظاہر کرتے ہیں کہ قومی سطح پر خطرہ بدستور موجود ہے۔





