اسلام آباد: عالمی یوم اساتذہ آج پانچ اکتوبر کو ایسے وقت میں منایا جارہا ہے جب تعلیمی نظام عملے کی کمی، نئی ٹیکنالوجی اور تدریسی ذمہ داریوں میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔
رواں سال کا مرکزی پیغام ’’اساتذہ کے ساتھ کھڑے ہوں‘‘ ہے۔ اس موقع پر انیس سو چھیاسٹھ میں یونیسکو اور عالمی ادارۂ محنت کی مشترکہ سفارشات کے ساٹھ برس مکمل ہونے کو بھی اجاگر کیا جارہا ہے۔
ان سفارشات میں اساتذہ کی تربیت، ملازمت، حقوق، ذمہ داریوں اور پڑھانے کے حالات سے متعلق بین الاقوامی معیار مقرر کیے گئے تھے۔
عالمی یوم اساتذہ انیس سو چورانوے سے منایا جارہا ہے۔ اس کا مقصد اساتذہ کی خدمات کو تسلیم کرنے کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ہے کہ انہیں مؤثر تدریس کے لیے ضروری وسائل اور مدد حاصل ہے یا نہیں۔
یونیسکو کے مطابق تنخواہیں، کام کا بوجھ، کلاس رومز کی حالت اور تعلیمی فیصلوں میں اساتذہ کی آواز اہم مسائل ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، ہجرت اور بے گھری بھی تدریسی ضروریات بدل رہی ہیں۔
ادارے کی عالمی رپورٹ کے مطابق دو ہزار تیس تک پرائمری اور ثانوی تعلیم کے لیے چار کروڑ چالیس لاکھ اساتذہ کی کمی کا خدشہ ہے۔ نئے اساتذہ کی بھرتی کے ساتھ موجودہ اساتذہ کو پیشے میں برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
پاکستان میں صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں اساتذہ کی تعلیم، مسلسل تربیت اور بہتر تعلیمی ماحول میں سرمایہ کاری پر زور دیا۔ مسلسل تربیت سے مراد ملازمت کے دوران نئی مہارتیں سیکھنے اور تدریسی طریقے بہتر بنانے کے مواقع ہیں۔
یہ دن فرانس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران منایا جارہا ہے، جہاں اساتذہ کی غیر حاضری، وسائل کی کمی اور بھاری تدریسی شیڈول نمایاں شکایات ہیں۔
پیرس میں یونیسکو کی عالمی تقریب میں تدریسی پیشے کو مضبوط بنانے پر گفتگو طے ہے۔ بنیادی توجہ اساتذہ کے لیے ایسی عملی مدد پر ہے جس سے ان کی کارکردگی اور بچوں کی تعلیم دونوں بہتر ہوسکیں۔





