پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سات نکاتی مسودہ جاری کر دیا ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ مذاکراتی کمیٹی کو پیش کیا گیا تھا۔ مسودے میں پی ٹی آئی کے مطالبات اور ان شرائط کا ذکر کیا گیا ہے جن کی تکمیل پر پارٹی اپنا موجودہ لانگ مارچ ختم کرے گی۔
4 اکتوبر کو ایکس پر جاری بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ مسودے میں شامل کوئی بھی مطالبہ غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں اور یہ پارٹی کے مطالبات ہیں اور رہیں گے۔
مسودے کے پہلے نکتے میں وزیراعظم اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان باقاعدہ ملاقاتوں کا مطالبہ کیا گیا ہے، جن میں سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔ مسودے کے مطابق دونوں فریق دو ماہ کے اندر ان معاملات کے حل کی جانب پیش رفت کے لیے کام کریں گے۔
دوسرے نکتے کے تحت وزیراعظم حکومت کے اتحادیوں، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔ یہ کمیٹی سیاسی اور قومی معاملات پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور ایک ماہ کے اندر متعلقہ قیادت کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
تیسرا اور چوتھا نکتہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے متعلق ہے۔ مسودے میں جیل مینوئل، آئین اور موجودہ قوانین کے تحت ان کے قانونی، طبی اور دیگر حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جیل قوانین کے مطابق اہل خانہ، نامزد وکلا اور مجاز افراد سے ملاقاتوں کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
پانچویں نکتے میں عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، بزرگ اور بیمار قیدیوں سمیت زیر حراست افراد کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر، جہاں قانونی طور پر ممکن ہو، 10 روز کے اندر غور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مسودے میں یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی سمیت ان خواتین کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے جنہیں اس میں سیاسی قیدی قرار دیا گیا ہے۔
سکیورٹی سے متعلق چھٹے نکتے میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل مشاورت کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے تحت دونوں حکومتوں کے مجاز نمائندے 72 گھنٹوں کے اندر اجلاس کریں گے اور امن و امان کے لیے حکمت عملی مرتب کریں گے، جس پر آئین اور قانون کے دائرے میں مشترکہ طور پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
آخری نکتے کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے طے شدہ اقدامات پر عملدرآمد کی تحریری یقین دہانی ملنے کے بعد پی ٹی آئی اپنا موجودہ لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کرے گی۔
مسودے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں یا آئینی اور قانونی تقاضوں پر عمل نہیں کرتی تو پی ٹی آئی پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے اپنے حق کو برقرار رکھے گی۔





