اگر وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے حوالے سے کوئی آئینی قدم اٹھانا چاہے تو آئین میں دو واضح راستے موجود ہیں:
- آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ
- آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج
فی الحال حکومت کی جانب سے ان میں سے کسی کا رسمی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
یکم اکتوبر کو پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ حکومت ایمرجنسی کے آپشن پر غور کر رہی ہے۔ دو دن بعد وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ آئین وفاق کو متعدد راستے فراہم کرتا ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن رہنما بیرسٹر گوہر خان ان دونوں آپشنز کو مسترد کرتے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ ان کی جماعت کسی بھی ایسے اقدام سے قبل سیاسی مذاکرات کو ترجیح دیتی ہے۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر حسین بخاری کے مطابق، باضابطہ مشاورت کی صورت میں پیپلز پارٹی آئین کے مطابق اپنا موقف اختیار کرے گی۔ واضح رہے کہ حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو چکا ہے۔
دونوں آئینی راستوں میں بنیادی فرق
- شرائط: ایمرجنسی اس وقت نافذ کی جا سکتی ہے جب ملک یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی شدید اندرونی بدامنی سے خطرہ ہو جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو جائے۔ اس کے برعکس، گورنر راج کے لیے پہلا قدم گورنر کی بریفنگ یا رپورٹ ہوتی ہے، جس کی بنیاد پر صدرِ مملکت کو یہ یقین دہانی
درکار ہوتی ہے کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔ - صوبائی اسمبلی کا کردار: اندرونی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور کروانا لازمی ہے۔ تاہم، آرٹیکل 234 (گورنر راج) میں ایسی کسی صریح شرط کا ذکر موجود نہیں ہے۔
- پارلیمان کی منظوری: اگر صدرِ مملکت خود ایمرجنسی کا اعلان کریں تو 10 دنوں کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں اور 30 دنوں کے اندر مشترکہ اجلاس سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔ جبکہ گورنر راج کا اعلان پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جاتا ہے، اور اگر دونوں ایوان الگ الگ قرارداد منظور کر لیں تو صدر کو گورنر راج کا نافذ کرنا ہوتا ہے۔
- مدت: ایمرجنسی دو ماہ بعد ختم ہو جاتی ہے، الا یہ کہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس اس میں توسیع کی منظوری دے۔ گورنر راج بھی ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے نافذ ہوتا ہے اور اس میں دو دو ماہ کی توسیع کی جا سکتی ہے، مگر اس کی مجموعی مدّت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
- اختیارات کا انتقال: گورنر راج کی صورت میں صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمان کو منتقل ہو جاتے ہیں۔ جبکہ ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود اسمبلی کے اختیارات سلب نہیں کیے جاتے۔ تاہم، دونوں صورتوں میں ہائی کورٹ کے عدالتی اختیارات کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔
اندرونی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی پیشگی قرارداد ضروری ہے—یہ شرط 2010 میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے شامل کی گئی تھی۔ ایمرجنسی نافذ ہونے کی صورت میں پارلیمان کو صوبے کے ان معاملات پر قانون سازی کا اختیار مل جاتا ہے جو وفاقی فہرست سے باہر ہیں، جبکہ وفاقی حکومت صوبے کو ہدایات جاری کر سکتی ہے۔
آرٹیکل 234 میں صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی شرط صراحتاً درج نہیں ہے۔ بعض آئینی ماہرین کا ماننا ہے کہ عملاً اسمبلی کی رضامندی پھر بھی درکار ہوگی، تاہم آئین کے متن میں اس کا صریح ذکر نہیں۔
علاوہ ازیں، آرٹیکل 236 کے تحت اس باب کے تحت جاری کیے گئے کسی بھی اعلان یا حکم کی قانونی حیثیت کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
ہائی کورٹ کے وکیل حسن عبداللہ نیازی کے مطابق، 18ویں ترمیم کے بعد اندرونی بدامنی پر ایمرجنسی کا نفاذ صوبائی اسمبلی کی قرارداد سے مشروط ہے۔ بیرسٹر رضا حسین کا کہنا ہے کہ آئین اس نوعیت کے اقدامات کے لیے اسمبلی کی منظوری کا تصور رکھتا ہے، جبکہ آرٹیکل 234 کا آغاز گورنر کی رپورٹ اور صدر کے اطمینان سے ہوتا ہے۔ دیگر قانونی ماہرین کے مطابق آرٹیکل 234 کے تحت پارلیمان کی منظوری کے بغیر گورنر راج دو ماہ سے زائد برقرار نہیں رہ سکتا۔
قومی اسمبلی میں کل 336 نشستیں ہیں اور دو تہائی اکثریت کے لیے 224 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے پاس 243 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جن میں پیپلز پارٹی کے 74 ارکان شامل ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی حمایت واپس لے لے تو حکومتی ارکان کی تعداد 169 رہ جاتی ہے، جو کہ صرف سادہ اکثریت ہے۔
سینیٹ کی 96 نشستوں میں سے حکومتی اتحاد کے پاس تقریباً 64 نشستیں ہیں، جن میں 26 پیپلز پارٹی کی ہیں۔ آئینی متن کے مطابق گورنر راج کی منظوری کے لیے مشترکہ اجلاس کی سادہ قرارداد درکار ہوتی ہے اور اس کے لیے کسی مخصوص تعداد کا ذکر نہیں۔
جو حقائق ابھی سامنے نہیں آئے
- گورنر کی رپورٹ: آیا آرٹیکل 234 کے تحت گورنر خیبر پختونخوا کی کوئی رسمی رپورٹ وفاق کو موصول ہوئی ہے یا نہیں، اس بارے میں فی الحال کوئی حتمی خبر سامنے نہیں آئی۔
- وفاق کا حتمی فیصلہ: وفاقی وزرا نے آئینی دفعات کا ذکر تو کیا ہے، لیکن ابھی تک کسی ایک راستے کو حتمی طور پر اختیار کرنے کا عزم ظاہر نہیں کیا۔
جب تک صدرِ مملکت ان میں سے کسی آئینی آرٹیکل کے تحت باقاعدہ اعلامیہ جاری نہیں کرتے، صوبے میں نہ تو ایمرجنسی نافذ ہے اور نہ ہی گورنر راج۔





