ویب ڈیسک: کیو کے قریب ایک گودام پر تباہ کن حملے کے چند دن بعد، روسی وزارت دفاع نے اتوار کے روز کہا ہے کہ وہ یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے "بڑے پیمانے پر" حملوں کی سیریز کی تیاریاں کر رہی ہے۔
وزارت دفاع نے ٹیلی گرام پر جاری ایک پوسٹ میں مجوزہ حملوں کو روسی توانائی کی تنصیبات پر یوکرین کی جانب سے مسلسل جاری حملوں کا ردعمل قرار دیا ہے۔
گوگل ترجُمے کے مطابق، پوسٹ میں کہا گیا کہ "موصولہ ہدایات کے مطابق، روسی فیڈریشن کی مسلح افواج نے کیو حکومت کی جانب سے روسی شہری ڈھانچے اور ایندھن و توانائی کی تنصیبات پر مسلسل حملوں کے جواب میں یوکرینی توانائی کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔"
یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میلا نامی گاؤں میں بارود کے گودام پر روسی حملے کے بعد شدید آگ لگ گئی اور دھماکے ہوئے۔ یوکرینی حکام کے مطابق جمعے کی شام کیو کے مغرب میں واقع ایک گودام پر روسی حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 38 ہو گئی ہے جبکہ چار افراد ابھی تک لاپتہ ہیں، جس کے بعد یہ جاری برس میں یوکرین میں ہونے والا سب سے مہلک ترین حملہ بن گیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق روس یوکرین کے پاس انٹرسیپٹر اور ایئر ڈیفنس میزائلوں کی کمی کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، کیونکہ ایران کے ساتھ امریکی کشیدگی کے باعث یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے والے سب سے بڑے ملک، امریکہ سے سپلائی بند ہو چکی ہے۔ یوکرینی زمینی کارروائیوں کے تحفظ اور روس کے مسلسل میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرنے والے پیٹریاٹ اور تھارڈ (THAAD) جیسے سسٹمز کے ایئر ڈیفنس میزائلوں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔





