سیاست
انتظامی اکائیوں پر بحث نے حکومت کو مشکل میں ڈال دیا
حُسنِ انتظام سے جڑے سوالات نے پاکستان کے صوبائی ڈھانچے سے متعلق ایک پرانی بحث میں نئی روح پھونک دی ہے۔

آئینی طور پر نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی حد بندی سے متعلق ایک پرانی بحث نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے، جو وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں قائم ن لیگ حکومت کے لیے ایک مشکل صورتحال کا باعث بن سکتی ہے۔
اس وقت ملک چار صوبوں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت سات انتظامی اکائیوں پر مشتمل ہے۔ موجودہ انتظامی حالتِ زار کے ناقدین کا کہنا ہے کہ صوبائی اور انتظامی اکائیوں کا حجم عوام کو فوری اور موثر سروس ڈیلیوری کی راہ میں رکاوٹ ہے، اور وہ انتظامی مشکلات میں گزشتہ 50 سالوں کے دوران پاکستان کی آبادی میں ہونے والے اضافے کو اہم عنصر قرار دیتے ہیں۔
تاہم اس بحث کا آغاز خود حکومت کے ایک رکن، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے گزشتہ ماہ دیے گئے ایک خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ موجودہ نظام "تباہ" ہو چکا ہے اور ملک کے مسائل حل کرنے سے قاصر ہے۔
انہی خیالات کی کچھ حد تک بازگشت یومِ آزادی کے موقع پر اسلام آباد میں سسٹینیبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام منعقدہ سیمینار میں بھی سنائی دی، جس میں نور عالم خان، سلمان اکرم راجہ اور پی ٹی آئی کے اسد عمر سمیت متعدد معروف شخصیات نے شرکت کی۔ ان تمام رہنماؤں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ صرف نئے صوبے بنانے سے پاکستان کے انتظامی مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے دیگر ادارہ جاتی اور معاشی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔
سیمینار میں پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ اور ندیم افضل چن نے بھی شرکت کی اور دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ وسائل کی پائیدار اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے ایسی کسی بھی تجویز پر انتہائی احتیاط سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ کا موقف بھی اس سے ملتا جلتا تھا۔
موجودہ حکومت کے ارکان، سید مصطفیٰ کمال اور عقیل ملک نے بالترتیب اس نقطے کی نشاندہی کی کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں حکومت کو عوام کے قریب لانے میں مددگار ثابت ہوں گی، اور یہ کہ اکثر ووٹرز سڑکوں اور سیوریج جیسے روزمرہ کے مسائل کے لیے ہی منتخب نمائندوں سے رجوع کرتے ہیں۔
اس کے برعکس ڈاکٹر فرخ سلیم اور صحافی محمد مالک نے مختلف رائے پیش کی، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسی کسی بھی اصلاحات سے لوگوں کی زندگیوں میں نمایاں بہتری لانی ہے تو حکومتی و سیاسی کلچر کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اخراجات میں کمی کی بھی شدید ضرورت ہے۔
انتظامی اکائیوں پر بحث اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود پاکستان، جس کی جڑیں 1964 میں ایوب خان کے دورِ حکومت میں مغربی اور مشرقی پاکستان کو منفرد انتظامی اکائیاں بنانے کے اقدام سے جڑی ہیں۔ اس کے بعد سے صوبائی اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کی تجاویز تو بارہا پیش کی گئیں لیکن وہ روایتی سیاسی جماعتوں کے درمیان سیاسی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔
یہ بحث ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ملک بھر میں تباہ کن سیلاب سے نمٹنے کے اقدامات پر تنقید کے بعد حکومت کو مہنگائی میں کمی لانے اور معیشت کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔






