ویب ڈیسک: بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے خبردار کیا ہے کہ پانی کو کبھی بھی ہتھیار، سیاسی دباؤ یا زبردستی کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی جانب سے ایس سی او کی صدارت سنبھالنے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے پانی کو جنوبی ایشیا کی شریان قرار دیا، جو کروڑوں انسانوں اور زرعی نظام کی بقا کا ضامن ہے۔
وزیراعظم کا یہ بیان سندھ طاس معاہدے سے متعلق علاقائی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں حالیہ بین الاقوامی ثالثی فیصلے نے معاہدے کی شقوں کو معطل کرنے کی کوششوں کے باوجود اس کی قانونی اور پابند حیثیت کی توثیق کی تھی۔ چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سمیت علاقائی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی ایک سالہ صدارت کا منشور پیش کیا، جس کا اختتام 2027 میں اسلام آباد میں اگلے سربراہی اجلاس کی میزبانی پر ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام بین الاقوامی دوطرفہ اور کثیر الجہتی معاہدوں کی ان کے الفاظ اور روح کے مطابق مکمل پاسداری کی جانی چاہیے۔ اسلام آباد کی سفارتی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت اور سہ فریقی مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ میں پاکستان کے سہولت کارانہ کردار کی نشاندہی کی، جس کے بارے میں انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے۔
وزیراعظم نے علاقائی رابطہ کاری اور تجارتی بنیادی ڈھانچے کو ایس سی او خطے کے تین ارب سے زائد عوام کی حکمتِ عملی کی ضرورت قرار دیا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کو علاقائی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے جوڑنے والا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے ایس سی او ڈیولپمنٹ اسٹریٹجی 2035 پر عمل درآمد اور ایس سی او ڈیولپمنٹ بینک کے قیام کا مطالبہ کیا۔
خطاب کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی عظیم قربانیوں کا اعادہ کرتے ہوئے 90 ہزار سے زائد جانی نقصان اور 150 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا ذکر کیا، جبکہ انہوں نے غربت کے خاتمے، توانائی کی سیکیورٹی اور مظلوم قوموں کے حقِ خودارادیت کے لیے عالمی سطح پر نئے عزم کے ساتھ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔




