واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع اور آسٹریلوی حکام اس بات کی تحقیقات کررہے ہیں کہ آسٹریلوی فضائیہ کے ایف 35 طیارے کے دو ناکارہ پرزے مئی کے اواخر میں امریکا بھیجے جاتے ہوئے ہانگ کانگ کیسے پہنچ گئے۔
یہ پرزے معائنے، ممکنہ مرمت یا تلفی کے لیے امریکا بھیجے جارہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق کھیپ میں کاک پٹ کو ڈھانپنے والا شفاف کور اور طیارے کے اندر ہتھیار رکھنے والے حصے کا دروازہ شامل تھا۔
یو پی ایس یہ سامان ایف 35 بنانے والی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کی جانب سے منتقل کررہی تھی۔ کھیپ جنوبی کوریا کے راستے غیر متوقع طور پر ہانگ کانگ پہنچ گئی، تاہم راستہ تبدیل ہونے کی وجہ اب تک عوامی طور پر واضح نہیں کی گئی۔
پینٹاگون کے ایف 35 جوائنٹ پروگرام آفس نے ناقابل استعمال پرزوں کی ترسیل میں مسئلے کی تصدیق کی ہے۔ ادارے کے مطابق امریکی حکام اور متعلقہ کمپنیاں پرزوں کی واپسی، واقعے کی تحقیقات اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کام کررہی ہیں۔
ناقابل استعمال قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ پرزہ عملی طور پر استعمال کے قابل نہیں رہا۔ اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ اس میں موجود تمام مواد یا ڈیزائن کی تکنیکی اہمیت ختم ہوگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں پرزوں پر ریڈار کی لہروں کو جذب کرنے والا مواد موجود تھا۔ یہ مواد طیارے کو ریڈار پر کم نمایاں کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ایف 35 جدید سینسرز، معلومات کے باہمی تبادلے اور دشمن کے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھنے والا پانچویں نسل کا جنگی طیارہ ہے۔
آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے کہا کہ لاپتا پرزوں کو حساس آلات میں شمار نہیں کیا گیا۔ لاک ہیڈ مارٹن نے بھی انہیں ناکارہ اور تکنیکی استحصال کے لیے کم خطرے کا حامل قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کھیپ چینی حکام کے قبضے میں ہے۔ تاہم اب تک کوئی عوامی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ چین نے ان پرزوں کا معائنہ، تجربہ یا نقل تیار کی ہو۔





