اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ کے اجلاس میں پولٹری انڈسٹری نے انکشاف کیا ہے کہ قطر، کویت اور عمان سمیت بعض خلیجی ممالک نے پاکستانی انڈوں کو منفی فہرست میں شامل کر رکھا ہے، جس کے باعث برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔
رکن قومی اسمبلی سید حسین طارق کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پولٹری انڈسٹری کے نمائندوں نے سوشل میڈیا پر مرغی کے گوشت اور انڈوں کے خلاف منفی پروپیگنڈے سے متعلق بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس منفی پروپیگنڈے سے مارکیٹ بری طرح متاثر ہوتی ہے، اس لیے سوشل میڈیا مواد کی روک تھام کے لیے قانون سازی ضروری ہے۔ پولٹری ایکسپورٹرز کے نمائندوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی پولٹری کی برآمدات پر 5 فیصد ڈیوٹی عائد ہے، جبکہ بھارتی برآمدات پر یہ شرح صرف 3 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی پولٹری کی برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر حکومتی سرپرستی اور مراعات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قطر کی مارکیٹ کو پاکستانی پولٹری مصنوعات کے لیے کھلوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ایکسپورٹرز کا مزید کہنا تھا کہ پولٹری مصنوعات برآمدات کی منفی فہرست میں شامل ہیں، جس کی وجہ سے اس شعبے کو دیگر برآمدی صنعتوں کی طرح مراعات نہیں مل پا رہیں۔
انہوں نے پاکستان میں پولٹری اور زرعی برآمدات کے لیے بالخصوص خصوصی زونز قائم کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے مناسب سرپرستی اور مراعات فراہم کی جائیں تو ملک سے سالانہ پولٹری مصنوعات کے 1,000 کنٹینرز برآمد کیے جا سکتے ہیں۔
وزارت برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے سیکرٹری عامر علی احمد نے کمیٹی کو بتایا کہ لائیو اسٹاک کے شعبے میں منہ کھُر کی بیماری (ایف ایم ڈی) پاکستانی گوشت کی برآمدات میں بڑا چیلنج ہے، اس لیے اس بیماری کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا، ”لائیو اسٹاک شعبے میں ایف ایم ڈی پر قابو پانے کے لیے ہمیں بین الاقوامی معیار کے مطابق اقدامات کرنا ہوں گے۔“
چیئرمین نے بتایا کہ یہ اجلاس ملک میں لائیو اسٹاک، مویشیوں اور پولٹری کی پیداوار بڑھانے کے حوالے سے وزیر اعظم کی ہدایات پر طلب کیا گیا تھا۔
سیکرٹری قومی غذائی تحفظ نے بتایا کہ ملک کا لائیو اسٹاک شعبہ زراعت میں 60 فیصد اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 15 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف ایم ڈی سے متاثرہ علاقوں سے برآمدات کے باعث قیمت اور مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، نیز اس بیماری کی وجہ سے گوشت بون لیس صورت میں برآمد کرنا پڑتا ہے جس سے برآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے۔





