اسلام آباد: پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں درآمدات میں برآمدات کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اضافے کے باعث پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 10.8 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔
جولائی سے ستمبر کے دوران تجارتی خسارہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ رہا اور 9.37 ارب امریکی ڈالر سے تقریباً 1.4 ارب ڈالر بڑھ گیا۔
سہ ماہی کے دوران درآمدات سالانہ بنیادوں پر 13.2 فیصد اضافے کے ساتھ 19.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو تقریباً 2.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہے۔ اسی دوران برآمدات 10.8 فیصد یا 824 ملین ڈالر بڑھ کر 8.4 ارب امریکی ڈالر رہیں۔
ستمبر میں برآمدات گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 16 فیصد بڑھ کر 2.9 ارب امریکی ڈالر ہوگئیں، جبکہ درآمدات 11.5 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 6.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔
ستمبر میں ماہانہ تجارتی خسارہ تقریباً 3.6 ارب امریکی ڈالر رہا، جو اگست کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال ستمبر کے مقابلے میں برآمدات میں 17.6 فیصد جبکہ درآمدات میں 11 فیصد اضافہ ہوا۔
مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات نے مجموعی درآمدی بل میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔ پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق خام تیل کی درآمدی مالیت میں 40.5 فیصد جبکہ درآمدی مقدار میں 13.7 فیصد اضافہ ہوا۔
مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمدات میں 47 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات میں بالترتیب 26 فیصد اور 28.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بتایا ہے کہ نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت ٹیرف میں اصلاحات کا مقصد پیداواری لاگت کم کرنا اور برآمدات کو فروغ دینا ہے۔ حکومت نے برآمد کنندگان کو 4.5 فیصد شرح سود پر رعایتی قرضوں کی فراہمی کے لیے 88 ارب روپے بھی مختص کیے ہیں۔
رواں مالی سال کے لیے حکومت کو توقع ہے کہ درآمدات 70 ارب امریکی ڈالر تک پہنچیں گی، جبکہ برآمدات کا ہدف 32.5 ارب امریکی ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔





