اسلام آباد: 1965 کی جنگ میں اہم کردار ادا کرنے والے بحری اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے آج ملک بھر میں یومِ بحریہ منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ’آپریشن دوارکا‘ کی یادگار ہے، جسے کوڈ نیم ’آپریشن سومناتھ‘ دیا گیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران پاک بحریہ کے سات اہم جنگی جہازوں نے دشمن کی حدود میں داخل ہو کر کارروائی کی اور دوارکا میں ہندوستانی ریڈار اسٹیشن اور ریڈیو بیکن سمیت ساحلی تنصیبات کو تباہ کر دیا تھا۔
اس آپریشن کو 1965 کے معرکے کے دوران بحری دفاع کے ایک اہم باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اسی دوران پاک بحریہ کی آبدوز ’غازی‘ نے دشمن کے خلاف موثر جوابی حکمتِ عملی اور خوف کی علامت کے طور پر اہم ترین کردار ادا کیا، اور سمندر میں اپنی فعال موجودگی سے دشمن پر دھاک بٹھائی۔
ہر سال یومِ بحریہ کا مقصد 1965 کے معرکے میں حصہ لینے والے غازیوں اور وطن کے دفاع کی خاطر جانیں قربان کرنے والے شہدا کو یاد کرنا ہے۔ سرکاری تقاریب میں دوارکا کے مقام پر بحری جہازوں کی جرات مندانہ کارروائی اور آبدوز غازی کے کلیدی کردار کو خاص طور پر اجاگر کیا جاتا ہے۔
یومِ بحریہ کا بنیادی مقصد 1965 کی معرکہ آرائی کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس موقع پر منعقد ہونے والی تقاریب اور جاری کردہ بیانات میں آپریشن دوارکا اور آبدوز غازی کے تاریخی حقائق کا اعادہ کیا جاتا ہے۔
یوں یومِ بحریہ ہر سال 1965 کے ان تاریخی بحری معرکوں کی یاد تازہ کرتا ہے، جن میں دوارکا میں ساحلی ہدف کے خلاف سات بڑے جنگی جہازوں کا کامیاب مشن اور آبدوز غازی کا جرات مندانہ کردار شامل ہے۔





