اسلام آباد: یومِ دفاع و شہدا آج ملک بھر میں قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد وطن کے شہدا اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور ہر قسم کے خطرات کے خلاف مادرِ وطن کے دفاع کے قومی عزم کا اعادہ کرنا ہے۔
یومِ دفاع و شہدا 6 ستمبر 1965 کے ان واقعات کی یاد میں منایا جاتا ہے جب بھارتی افواج نے رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا، تاہم قومی دفاعی افواج نے دشمن کی جارحیت کو ناکام بنا دیا۔
یومِ دفاع کی سرکاری تقریبات کا آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 توپوں کی سلامی اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ نمازِ فجر کے بعد ملک بھر کی مساجد میں قومی ترقی، خوشحالی اور بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
ریڈیو پاکستان یومِ دفاع و شہدا کے حوالے سے دن بھر خصوصی پروگرام نشر کر رہا ہے، جن میں ملکی دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
کراچی میں مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب بھی منعقد ہوئی۔ پاک فضائیہ اکیڈمی اصغر خان کے 72 مرد اور 8 خواتین کیڈٹس پر مشتمل دستے نے مزارِ قائد پر گارڈز کے فرائض سنبھال لیے۔ پاک فضائیہ اکیڈمی اصغر خان کے ایئر آفیسر کمانڈنگ ایئر وائس مارشل حسن فیصل تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔
دوسری جانب صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے الگ الگ پیغامات میں ملک میں جاری انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کو سراہا۔
صدر زرداری نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران خوارج دہشت گردوں کے خاتمے پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے افغان سرحد کے پار سے خوارج عناصر کی پاکستان میں دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
صدر نے کہا کہ سرحدوں کا دفاع اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے عبوری افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی خیبر پختونخوا میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی جانے والی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران فتنۃ الخوارج سے وابستہ غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خاتمے پر سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک پاکستان کی سرزمین سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔





