اسلام آباد: پاکستان اور آذربائیجان نے بحری افواج کے خصوصی دستوں کی پہلی دوطرفہ مشق، کریسنٹ ٹائیڈ ون، منعقد کی، جس کا مقصد عملی تعاون اور مشترکہ کارروائیوں کی صلاحیت بڑھانا تھا۔
مشق میں عملی تجربات کا تبادلہ، اعلیٰ درجے کی جنگی تربیت اور یرغمالیوں کی بازیابی کے مختلف منظرنامے شامل تھے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے اہلکاروں نے مربوط انداز میں کارروائی کرنے کی تربیت حاصل کی۔
بحری خصوصی دستے ایسے تربیت یافتہ یونٹس ہوتے ہیں جو سمندری اور ساحلی ماحول میں مشکل کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں امدادی مشن اور مسلح خطرات سے نمٹنا شامل ہو سکتا ہے۔
مشق کا ایک اہم مقصد دونوں افواج کی باہمی مطابقت بہتر بنانا تھا، یعنی مختلف ممالک کے دستے مؤثر رابطے کے ساتھ ایک مشترکہ مشن انجام دے سکیں۔
اس کے لیے اہلکاروں کا ایک دوسرے کی منصوبہ بندی اور طریقہ کار سے واقف ہونا ضروری ہوتا ہے۔ کریسنٹ ٹائیڈ ون میں مشترکہ حربوں، عملی تکنیکوں اور طے شدہ طریقہ کار کو سمجھنے پر توجہ دی گئی۔
یرغمالیوں کی بازیابی کے منظرناموں میں دستوں نے ایسی صورتحال کی مشق کی جہاں فوری فیصلے، قریبی رابطہ اور منظم کارروائی ضروری ہوتے ہیں۔
تربیت میں غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کی تیاری بھی شامل تھی۔ ایسے خطرات میں مخالف قوت براہ راست بڑی فوجی طاقت سے مقابلے کے بجائے اچانک حملوں، چھوٹے مسلح گروہوں یا دیگر غیر روایتی طریقوں کا استعمال کرتی ہے۔
ان حالات میں خصوصی دستوں کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کے ساتھ دوسرے یونٹس سے رابطہ برقرار رکھنا پڑتا ہے۔
دونوں ممالک کے بحری خصوصی دستوں کی پہلی دوطرفہ مشق ہونے کے باعث کریسنٹ ٹائیڈ ون آئندہ تربیتی تبادلوں اور عملی تعاون کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
مشق کی توجہ مشترکہ سمندری مشنز میں مل کر کام کرنے اور عملی تربیت کے ذریعے ایک دوسرے کے طریقہ کار کو بہتر سمجھنے پر رہی۔





